تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 246
ایک بےموقعہ بات کی اور آپ کے چہرے پر نا پسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے۔لیکن آپ نے اپنی ناپسندیدگی کو دبانے کے لئے اس کی طرف سے مُنہ پھیر لیا۔کفار تو مومنوں میںپھوٹ ڈلوانے کی ہمیشہ کوشش کیا ہی کرتے ہیں۔جب کفار کو اس واقعہ کا علم ہوا اور کیوں نہ معلوم ہوتا کہ خود کفار ہی کی موجودگی میں یہ واقعہ ہوا تھا تو کفار نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اِس واقعہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک غریب ساتھی کی بڑی ہتک کی ہے صرف اس لئے کہ وہ غریب تھا جب آپؐ کے پاس شرفاء مکہ بیٹھے تھے اس کے آنے پر آپؐ ناراض ہو گئے۔اور اس ذریعہ سے مسلمانوں کے دلوں میں تذبذب اور شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔آنحضرت ؐ کے اخلاق کو پیش کر کے آنحضرت ؐ پر ابن ام مکتوم کے متعلق اعتراض کر نے والوں کا منہ توڑ جواب اللہ تعالیٰ اُن کے اِس اعتراض کی کمزوری اور لغویّت ظاہر کرنے کے لئے ھزء اور تحکم کے رنگ میں اس اعتراض کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى۔اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى ہمارے رسول نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا صرف اتنی سی بات پر کہ ابنِ اُم مکتوم اُس کے پاس آیا۔اور مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ظاہر ہیں اور دوست ودشمن اُن سے واقف ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ہی غر باء کے ساتھ رہتی تھی اور غرباء کی جماعت ہی آپؐ کے اردگرد بیٹھتی تھی جو شخص غلاموں کی آزادی اور غریبوں، بیوائوں، یتیموں اور مسکینوں کی ترقی کے لئے رات دن مشغول رہتا ہو اس پر یہ الزام لگانا کہ صرف اس وجہ سے کہ ایک اندھا اس کے پاس آیا تھا اُس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔کوئی عقلمند اِس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔پس یہ الزام خود ہی اپنی ذات میں تردید کر رہا ہے۔جیسے کہتے ہیں آفتاب آمد دلیلِ آفتاب۔سورج کا نِکلنا ہی سورج ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اِس امر کا منسوب کرنا ہی اِس الزام کا کافی جواب ہے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔پھر وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى اَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی کہہ کر اس تردید کو دلیل عقلی سے بھی مکمل کر دیااور فرمایا کہ اندھے یا سوجاکھے کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا کیا علم ہو سکتا تھا کہ کون سا شخص ہدایت پائے گا اور کون سا نہیں۔کون ہدایت پر قائم رہے گا اور کون پھسل جائے گا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ظاہری شریعت کے پابند ہیں اور غیب کے علم میں دخل اندازی پسند نہیں کرتے۔غیب کا علم خدا کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ جو لوگ آج کافر نظر آتے ہیں وہ مرتے وقت کیا ہوں گے اور جو لوگ آج مومن نظر آتے ہیں وہ مرتے وقت کیا ہوں گے۔ہماری شریعت کا ظاہری حکم یہی ہے کہ جو شخص ہم سے بات کر رہا ہو ہم پہلے اُس کی