تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 245

تَذْکِرَۃٌ کے معنے یہ ہیں کہ اِنَّ الْھَدَایَۃَ الَّتِیْ جَآئَ تْ مِنَ اللّٰہِ تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ اَیِ الْقُرْاٰنَ۔پس جو چاہے اس کلام سے جو ہم نے نازل کیا ہے فائدہ اٹھا لے۔ھَا کی ضمیر دونوں طرف جا سکتی ہے ذِکْریٰ کی طرف بھی جس کا ذکر اوپرآچکا ہے اور قرآن کی طرف بھی۔مگر اگلی آیات میں چونکہ خصوصیت سے قرآن کریم کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے وہی مراد ہے اور ا س امر کو ظاہر کرنے کے لئے ایک جگہ مؤنث کی ضمیر یعنی ھَا کو استعمال کر دیا اور آگے ذَکَرَہٗ میں مذکّر کی استعمال کر کے بتا دیا کہ مراد قرآن کریم ہے ہاں اس کی صفت تذکیر کی طرف خاص طور پر توجہ دلانا مقصود ہے اس لئے اس کی طرف مؤنث کی ضمیر پھیری گئی ہے۔ایک نیا نکتہ۔سورۃ عبس کی پہلی آیت کے ایک اور لطیف معنے آیات مذکورۃ الصدر کے ایک اور لطیف معنے بھی ہو سکتے ہیں۔اور انہی کے مطابق میں نے ترجمہ کیا ہے اور وُہ معنے یوں ہیں کہ اس جگہ کلام طنزیہ ہے جیسے کہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ (الدخان :۵۰) یعنی یہ جہنم کا کھانا کھا تُو تو بہت ہی طاقتو ر اور معزز تھا مطلب یہ کہ تو اپنے آپ کو طاقتور اور معزز کہا کرتاتھا حالانکہ تو نہ طاقتور تھا اور نہ معزز تھا یہ سب تیرے نفس کا فریب تھا اگر تُو اپنے خیال کے مطابق ہوتا تو آج تجھ کو جہنم کی ذلیل غذائیں کیوں کھانی پڑتیں۔صاحب کشاف کہتے ہیں کہ یہ آیت ھزء اور تہکم کی قسم سے ہے(تفسیر کشاف الجزء الرابع صفحہ ۲۸۲ زیر آیت ذق انک انت۔۔۔) یعنی دشمن کے قول کی بظاہر تصدیق کی گئی ہے لیکن اصل میں اس کی تردید مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ قول بالکل خلاف عقل ہے۔دوسری زبانوں میں بھی یہ کلام طنز استعمال ہوتا ہے چنانچہ اُردو میں بھی اگر کوئی شخص کسی کا دوست ہو اور ہمیشہ اس کی خیر خواہی کرتا رہا ہو اور وہ دوسرا شخص کسی موقعہ پر اس کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کر دے جو خیر خواہی کے خلاف ہو تو وہ دوست اُسے جواب میں کہتا ہے ’’ہاں ہاں کیوں نہیں میں تمہارا دشمن جو ہوا۔‘‘ اور مراد اس کی یہ ہوتی ہے کہ مَیں تو تمہارا دوست ہوں اور ہمیشہ تمہاری خیر خواہی کرتا رہا ہوں تم ایسا الزام مجھ پر کس طرح لگا سکتے ہو۔غرض مدّنظر تو تردید ہوتی ہے لیکن ظاہر میں انسان اس قول کی تائید کرتا ہے۔ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ(الدخان :۵۰) میں بھی یہی طریق کلام استعمال کیا گیا ہے۔دشمن کہا کرتا تھا کہ میں عزیز وکریم ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذباللہ ذلیل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ہم اُسے دوزخ میں ڈالیں گے اور اُسے کہیں گے لو یہ عذاب چکھو اس لئے کہ تم عزیز و کریم ہو اور مطلب اس کا یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو عزیز وکریم کہنے میں جھوٹے تھے۔اگر تم عزیز وکریم ہوتے تو یہ عذاب تمہیں کیوں دیا جاتا۔اسی رنگ کا کلام میرے نزدیک اس سورۃ میں بھی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک اندھا آیا۔اُس نے