تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 244

اللہ تعالیٰ اس کو آگے لانا پسند کرتا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ ذاتی قابلیتوں کے لحاظ سے و ہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اُسے آگے لایا جائے مگر چونکہ خاندانی عظمت کا جوہر بھی اُس کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے نبی کی جماعت میں وہ عزت پا جاتا ہے۔یہ مضمون ہےجو اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرما رہا ہے کہ کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ۔یہ قرآن تو ایک نصیحت کی کتا ب ہے جو چاہے اِسے پڑھے اور جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے۔اس میں نبی کا کوئی واسطہ نہیں۔خدا تعالیٰ نے مختلف لوگوںکی طبائع اس کے مطابق بنا دی ہیں اور وہ آہستہ آہستہ اس سے فائدہ اٹھاتے چلے جائیں گے ان کے راستہ میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی اگر امیر کو اس کے ساتھ قلبی مناسبت ہے تو اس امیر کو روکا نہیں جا سکتا اور اگر ایک غریب کو اس کے ساتھ قلبی مناسبت ہے تو اُس غریب کو روکا نہیںجا سکتا۔فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ یہ خیال کر لینا کہ دین صرف غریبوں کے لئے ہی ہے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔دین غریبوں کے لئے بھی ہے اور دین امیروں کے لئے بھی ہے جو چاہے خدا تعالیٰ کے دین میں داخل ہو کر فائدہ اٹھا لے اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھ جائے ہم نے کسی کو روکا ہوا نہیں۔یہی فقرہ ہے جو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا اور جس پر آج کل خاص طور پر زور پڑا ہوا ہے میں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب کے راستوں کو محدود نہیں کیا۔اُس نے اپنے فرشتوں کو اعلیٰ درجہ کے روحانی مدارج پر اس لئے نہیں کھڑا کر دیا کہ اب کسی کو آگے مت بڑھنے دو۔خدا تعالیٰ کے قرب کے راستے کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے یہاں تک کہ اگر کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قرب میںبڑھنا چاہے تو وہ بڑھ سکتا ہے۔اس کا مطلب یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی روک نہیں اگر کوئی بڑھ سکتا ہے تو بڑھ کر دکھا دے۔مگر جب کسی نے اب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر نہیں دکھایا اور نہ آئندہ دکھا سکتا ہے تو گو حقیقت یہی ہو گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل ہیں مگر کہا یہی جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے جبراً آپ کو اس مقام پر نہیں پہنچایا اور نہ اُس نے زبردستی طور پر دوسروں کو بڑھنے سے روکا۔خدا تعالیٰ کے قرب کے راستے کھلے ہیں اور اگر کوئی شخص بڑھنا چاہے تو بڑھ سکتا ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمایا ہے کہ فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗ ہماری طرف سے کوئی روک نہیں قرآن تو ساری دنیا کے لئے ہے۔امیر کے لئے بھی ہے اور غریب کے لئے بھی ہے۔عالم کے لئے بھی ہے اور جاہل کے لئے بھی ہے۔کالے کے لئے بھی ہے اور گورے کے لئے بھی ہے۔مشرقی کے لئے بھی ہے اور مغربی کے لئے بھی ہے۔جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے۔اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ میں ھا کی ضمیر کا مرجع اِنَّھَا میں ھَا کی ضمیر ہدایت اور موعظت کی طرف جاتی ہے گویا اِنَّھَا