تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 243
نَاشِطَات بننے والی روحیں آئیں گی کہاں سے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے دل میں یہ سوال کیوں پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں کہاں سے آئیں گے جب ہم نے خود ان لوگوں کو چُننا ہے او ر جب ان کا انتخاب ہمارے ہاتھوں میں ہے تو تمہیں اس کے متعلق کسی فکر کی ضرورت نہیں۔ہم جانتے ہیں کہ نَازِعَات اور نَاشِطَات بننے والی قابلیتوں کے حامل کون کون لوگ ہیں اور آیا وہ اُمراء میں ہیں یا غُرباء میں یا اُمراء اور غُرباء دونوں میں ہیں۔ہم اُن کے ذاتی اوصاف سے آگاہ ہیں۔ہمیں اُن کی مخفی قابلیتوںکا علم ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کسی میں کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔اس لئے ہم خود ان عظیم الشان امور کی سرانجام دہی کے لئے قابلیّتیں رکھنے والے نفوس کو کھینچ کھینچ کر لائیں گے قطع نظر اِس کے کہ ایسے نفوس اُمراء میں ہوں یا غرباء میں۔چنانچہ دیکھ لو حضرت عثمانؓ اسلام میں داخل ہوئے جو مکّہ کے مالدار خاندان میں سے تھے اور طلحہؓ اور زبیرؓ بھی اسلام میں داخل ہوئے جو چوٹی کے رئیس خاندانوں میں سے تھے گو اُس وقت قوم کے منتخب لیڈر نہ تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دولت اپنے ساتھ نہیں لائے لیکن حضرت عثمان اپنے ساتھ دولت بھی لائے۔گویا امراء اور معزّز خاندانوں میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے مناسب حال پایا اُن کو کھینچ لایا اور جن کو غرباء میں سے اسلام کے مناسب حال دیکھا اُن کو غرباء میں سے کھینچ لایا۔اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے ہماری جماعت کے ایک دوست تھے شیخ غلام احمد صاحب مرحوم اُن کو اپنے متعلق تصوّف میں دخل رکھنے کا خاص خیال تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ تصوّف کے متعلق جو اُن کانظریہ ہے وہی سب دُنیا کا ہونا چاہیے۔ایک دفعہ وہ مجھ سے ملے اور کہنے لگے بتائیے آپ کو غریب اچھے لگتے ہیں یا امیر اچھے لگتے ہیں۔میں نے پہلے تو اُن کو ٹالنا چاہا مگر جب بار بار اور اصرار کے ساتھ انہوں نے یہ سوال کیا تو میں نے اُنہیں کہا کہ مجھے نہ امیر اچھے لگتے ہیں نہ غریب اچھے لگتے ہیں نہ امیر بُرے لگتے ہیں نہ غریب بُرے لگتے ہیں۔میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کے کام کا تعلق ہے اس کو سرانجام دینے کے لئے وہ میرے ساتھ کسی امیر کو وابستہ کرتا ہے یا کسی غریب کو وابستہ کرتا ہے۔اگر میرے کام کے لئے وہ ایک غریب کو چُنتا ہے تو وہی مجھے اچھا لگتا ہے اور اگر میرے کام کے لئے وہ ایک امیر کو چُنتا ہے تو وہی مجھے اچھا لگتا ہے میں تو اللہ تعالیٰ کے اشارہ کی طرف نگاہ رکھتا ہوں کہ وہ کس آدمی کو کام کے لئے میرے ساتھ وابستہ کر رہا ہے۔اگر امیر ہوتو مجھے اس امیر سے محبت ہو جاتی ہے اور اگر غریب ہو تو مُجھے اُس غریب سے محبت ہو جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی یہ سُنّت ہے کہ وہ اپنے کام کے لئے امیروں کو بھی چُنتا ہے اور غریبوں کو بھی چُنتا ہے مگر اکثر وہ غریبوں میں سے چُنتا ہے اور اگر کوئی امیر چُنا جاتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ خاندانی لحاظ سے