تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 242

خیال کرتا ہے اور اُسے کہہ دیتا ہے ہمیں فرصت نہیں اور سمجھتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندھوں اور اپاہجوں کی طرف توجہ کرنا اُ س کے ادنیٰ ہونے کی علامت ہے اور تیرا مالداروں کی صحبت کا متلاشی ہونا تیرے بڑے ہونے کی علامت ہے۔مگر یہ امر درست نہیں کیونکہ قابلِ توجہ وہی ہے جس کی اصلاح اور پاکیزگی کی امید کی جائے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل مستحسن ہے اور تیرا ناک بُھوں چڑھانا ناواجب ہے۔اِن آیات میں بتایا ہے کہ اسلام کے آئندہ سپاہی امراء سے نہیں چُنے جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اُن کا انتخاب اُن ارواحِ طیّبہ سے کرے گا جو صداقت کو ماننے اور پاکیزگی کو حاصل کرنے کی تڑپ رکھتی ہیں۔گویا اَلنَّازِعَات اَلنَّاشِطَات وغیرہ ارواح جن کا اُوپر ذکر ہوا تھا ان کی نسبت بتاتا ہے کہ اُن کی جستجو مالداروں اور رئوساء میں نہ کرو اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ کہیں اور دبکی بیٹھی ہیں اللہ تعالیٰ ہی اُن کو چُنے گا۔كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ۰۰۱۲فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ۰۰۱۳ (ایسا) ہر گز نہیں (یہ سب الزامات غلط ہیں) یقیناً یہ (قرآن)تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اسے اپنے ذہن میں مستحضر کر لے۔تفسیر۔کَلَّا اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ میں ابن ام مکتوم کے متعلق آنحضرت ؐ پر اعتراض کرنے والوں کا جواب اُن معنوں کے لحاظ سے جن کو اوپر بیان کیا جا چکا ہے کَلَّآ کا لفظ اس کمزور انسان کے متعلق سمجھا جائے گا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شبہ کیا اور اپنے دل میں بعض ایسے وساوس کو آنے دیا جو اعلیٰ درجہ کے ایمان کے خلاف تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کَلَّآ ہر گز یوں بات نہیں جس طرح تم خیال کرتے ہو اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ یہ چیز جو ہماری طرف سے آئی ہے یہ تو ایک نصیحت کے طور پر ہے یعنی قرآن کریم خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نصیحت نامہ کے طور پر نازل ہواہے اور اُس کے نزول سے ہماری غرض یہ ہے کہ دُنیا کے تمام لوگ ہدایت پائیں پس جبکہ اس کتاب کی غرض لوگوں کو ہدایت کے راستہ پر قائم کرنا ہے تو بنی نوع انسان میں سے جس شخص کے قلب کو بھی اِس ہدایت سے مناسبت ہو گی وہ اس کو ضرور قبول کرے گا کیونکہ جب یہ چیز اُسی زمین میں پنپ سکتی ہے جو اس کے مناسب حال ہو تو وہ لوگ جو اُس سے مناسبت نہیں رکھتے ہوں گے وہ اس کی طرف آئیں گے ہی نہیں۔اور جو لوگ اُس سے مناسبت رکھتے ہوں گے وہ خود بخود آ جائیں گے اُن کو چننے اور انتخاب کرنے کا سوال ہی کہاں پیدا ہو سکتا ہے۔مَیں نے جیسا کہ شروع میں بیان کیا تھا سورۂ نازعات کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ نَازِعَات اور