تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 241

اخلاق ایسے ہی ہیں۔مَیں نے دیکھا ہے بیسیوں دفعہ منافق مجھ پر کئی قِسم کے اعتراض کرتے ہیں مَیں اُن کے جواب میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ یہ اعتراض تو صحیح ہیں مگر مجھ پر نہیں بلکہ خود تم پر پڑتے ہیں کیونکہ تمہارے اپنے اعمال بتا رہے ہیں کہ تم میں یہ یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔یہی طریق اللہ تعالیٰ نے اس جگہ اختیار کیا ہے کہ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ بعض لوگ غریبوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اُمراء کی طرف توجہ کر لیتے ہیں یہ تو بالکل صحیح اور درست ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ معترضین کے اندر بیشک یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور ہم اِن کی اس کمزوری کو تسلیم کرتے ہیں۔گویا ایک طرف اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کو صحیح قرار دے دیا اور دوسری طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جواعتراض کیا جاتا تھا اُس کو غلط قرار دے دیا اور مسلمانوں کو نصیحت کر دی کہ مسلمانوں میں سے جدید العہد یاکفار میں سے بعض لوگ چونکہ خود اُن کے اندر یہ نقائص پائے جاتے ہیں اِس لئے وہ اِن نقائص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں حرج نہیں سمجھتے۔تمہیں اِ ن باتوں سے بچنا چاہیے اور رسول کے متعلق مقامِ ادب پر کھڑا ہونا چاہیے۔احادیث کی روایتوں کو نظر انداز کر نے کی صورت میں عَبَسَ وَ تَوَلّٰی کے معنے اگر روایتوں کو نظر انداز کر دیا جائے تب تو آسانی سے اِن آیات کے یہ معنے کئے جا سکتے ہیں کہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى کافر کی نسبت ہے اور مراد یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب رئوساء مشرکین بیٹھے ہوئے تھے ایک اندھا آیا اور اُس نے کچھ سِیکھنا چاہا اس پر ایک کافر سردار نے عبوست کا اظہار کیا۔اور مُنہ پھیرلیا۔گویا اِس امر کو کہ آپؐ کے پاس ایک اندھا سیکھنے آیا ہے ایک حقیر امر سمجھا اور اس پر حقارت کا اظہار مُنہ پھیر لینے سے کیا۔اس پر فرماتا ہے اے عبوست اور تولّٰی کرنے والے! تجھے کیا معلوم ہے یہ شخص تو تزکیہ حاصل کرے گا یا نصیحت سُنے گا اور اُس سے فائدہ اٹھائے گا اور بطور دوست اور شاگرد ایسا ہی آدمی مفید ہوتا ہے اور عقلمند ایسے ہی انسان کی عزّت کرتے ہیں۔باقی رہا مالدار اور ظاہری ترقی یافتہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غرباء کے آنے پر ناک بھوں چڑھانے والے تُو تو ایسے ہی آدمی کی طرف لپکتا ہے اور اُسی کی طرف توجہ کرتا ہے۔اور تجھے اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ پاک ہوتا ہے یا بدکار ہوتا ہے تجھے تو اس سے غرض ہے کہ وہ مالدار اور دولتمند ہو پھر کسی اور شے کی پروا نہیں۔اور دوسرا شخص جو تیری طرف دوڑتا آتاہے (یعنی سوالی یا حاجتمند) اور اس کا دل ڈر رہا ہوتا ہے کہ یہ بڑا آدمی ہے میری بات بھی سُنتا ہے یا نہیں۔تُو نہ اس کو اپنی عنایت کا امیدوار سمجھ کر اس کی قدر کرتا ہے اور نہ اُس کی مسکینی اور دھڑکتے ہوئے دل کا