تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 238

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰىۙ۰۰۹وَ هُوَ يَخْشٰىۙ۰۰۱۰فَاَنْتَ عَنْهُ اور( کیا) جو تیری طرف دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ( ساتھ ہی خدا سے) ڈرتا بھی ہے تو تو اس تَلَهّٰىۚ۰۰۱۱ سے بے اعتنائی کرتا ہے۔حَلّ لُغَات۔یَسْعٰی یَسْعیٰ سَعٰی سے مضارع کا صیغہ ہے اور سَعٰی کے معنے ہیںقَصَدَ اُس نے ارادہ کیا۔اور جب سَعٰی الرَّجُلُ کہیں تو معنے ہوں گے مَشَی وَعَدَا یعنی وہ دوڑ کر چلا (اقرب) پس یَسْعٰی کے معنے ہوں گے وُہ دوڑ کر آتا ہے (۲)وہ قصد کرتا ہے۔تَلَھّٰی تَلَھّٰی اصل میں تَتَلَھّٰی ہے جو تَلَھّٰی سے مضارع ہے اور تَتَلَھّٰی کے معنے ہیں تَتَشَاغَلُ تو ایک سے توجہ ہٹا کر دوسرے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔(لسان) تفسیر۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کیا مگر اس سے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ یہ آیت ابن ام مکتوم والے واقعہ پر چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ ابن اُم مکتوم تو اندھے تھے وہ دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کس طرح آسکتے تھے۔پھر ابن اُم مکتوم تو اتنے دلیر آدمی تھے کہ مکّہ کے بڑے بڑے رئوساء بیٹھے ہیں اور وہ آتے ہی اُن کو ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ خدا اور رسول کے دشمن یہاں بیٹھے ہی کیوں ہیں۔یہ تو مردودلوگ ہیں ان کی طرف توجہ کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے مگر یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ هُوَ يَخْشٰى ساتھ ہی وہ ڈرتا بھی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا عبداللہ بن ام مکتوم والے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔اس میں بھی درحقیقت لوگوں کے اندرونی اخلاق کا ایک عام نقشہ کھینچا گیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنےوالوں کو جواب دیا گیا ہے کہ تم ہمارے رسول پر کیا اعتراض کرتے ہو تمہاری تو اپنی حالت یہ ہے کہ تمھارے پاس اگر کوئی غریب شخص دوڑا دوڑا آئے تو تم اُس کی طرف منہ بھی نہیں کرتے لیکن اگر کوئی امیر آجائے تو صرف اتنی بات پرہی خوش ہو جاتے ہو کہ وہ امیر تمہارے پاس چل کر آیا اور تم اس پر خوشی سے اپنے جامہ میں پُھولے نہیں سماتے۔پس یہ تمہاری اپنی حالت ہے ہمارا رسول ایسا نہیں۔ہمارے رسول کے متعلق یہ کہنا کہ وہ امیروں کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے اور غرباء کو نظر انداز کر دیتا ہے صریح ظلم ہے۔ہاں تمہاری حالت یہی ہے اوراس