تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 237

والوں کا اپنا حال بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ بڑے لوگوں کی طرف تو توجہ کرتے ہیں لیکن چھوٹے درجہ کے آدمیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والوں کو ان کی اپنی حالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اے معترض! تو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہتا ہے کہ جو مستغنی ہوتا ہے اس کی طرف وہ زیادہ توجہ کرتے ہیں اور جو غریب اور معمولی درجہ کا آدمی ہوتا ہے اس کی طرف وہ کوئی توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ اے معترض تُو جو کچھ کہہ رہا ہے یہ تیری اپنی حالت ہے اور تیرا ذاتی رویّہ واقعہ میں ایسا ہی ہے کہ تو اُمراء کی طرف توجہ کرتا ہے اور غرباء کو نظر انداز کر دیتا ہے مگر تُو اپنی اس حالت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے اور جو الزام خود تجھ پر عائد ہوتا ہے وہ تُو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا رہا ہے۔تُو اپنے حالات پر غور کر اور دیکھ کہ کیا یہ سچ نہیں کہ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۔فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى جو شخص امیر ہوتا ہے تیری ساری توجہ کا وہ مرکز بن جاتا ہے تَصَدّٰی دراصل تَتَصَدّٰی ہے وَمَا عَلَیْکَ اَلَّایَّزَّکّٰی حالانکہ تجھ پر اس بات کی کوئی ذمہ واری نہیں کہ کون شخص ہدایت پاتا ہے اور کون نہیں پاتا۔تمہیں خدا تعالیٰ کے قانون کا احترام مدنظر رکھنا چاہیے اور جو کچھ خدا کہےاس پر اپنی ذاتی خواہشات کو قربان کر دینا چاہیے خدا کہے کہ مومن سے بات کرو تو تم مومن سے بات کرو اور اگر خدا کہے کہ کافر سے بات کروتو تم کافر سے بات کرو۔مگر تم توعمدًااور ارادتًا اُنہی کی طرف توجہ کرتے ہو جو امراء میں شامل ہوتے ہیں حالانکہ یہ صرف خدا کو ہی پتہ ہے کہ کس نے نَازِعَات میں سے بننا ہے اور کس نے نَاشِطَات میں سے بننا ہے۔تمہارا کام یہی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے مقررہ قواعد ہیں اُن پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ نے اکرام ضیف کا حکم دیا ہے تم اکرامِ ضیف کو ملحوظ رکھو۔خدا تعالیٰ نے مقدم کو مقدم اور مؤخر کو مؤخر رکھنے کا حکم دیا ہے تمہارافرض ہے کہ تم بھی ایسا ہی کرو اور اس بات کو نظر انداز کر دو کہ فلاں امیر ہے اور فلاں غریب۔مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم امراء کی طرف توجہ رکھتے ہو اور پھر کہتے یہ ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے ہیں حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جو کچھ کیا خدائی منشاء کے مطابق کیا۔اس کے احکام کو انہوں نے ملحوظ رکھا۔اس کے اوامر کو انہوں نے تسلیم کیا اور اُس کے قوانین کو نظر انداز نہیں ہونے دیا۔مگر تم بجائے اپنی حالت پر غور کرنے کے یہ نقص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے ہو۔حالانکہ انہوں نے جو کچھ کیا بالکل بجا اور درست کیا۔