تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 236

نے یہ کہا ہے کہ جو بات مقدم ہو اُس کو مقدم رکھو اور جو مؤخر ہو اس کو مؤخر رکھو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کس طرح کر سکتے تھے؟ اور کس طرح فیصلہ کر سکتے تھے کہ عبداللہ بن ام مکتوم کی طرف اگر توجہ کی گئی تو وہ ضرور پاک ہو جائے گا۔اَوْيَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى یا یہ بھی کس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو سکتا تھا کہ اگر اُسے کچھ نصیحت کی باتیں بتائی گئیں تو وہ اُن سے فائدہ اٹھا لے گا؟ ممکن ہے کوئی شخص کہہ دیتا کہ اگر زیادہ نہ سہی تو عبداللہ بن ام مکتوم کچھ تو فائدہ اٹھا لیتے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اس بات کا بھی کیا علم ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ فائدہ اٹھاتا یا نہ اٹھاتا؟ یہ بھی ایک قیاس ہے اور وہ بھی ایک قیاس ہے۔اور جب دو قیاس جمع ہو گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس قیاس کو ترجیح دے دی جس کے ترجیح دینے سے اکرامِ ضیعف میں بھی کوئی نقص واقع نہیں ہو سکتا تھا۔اور خدا تعالیٰ کا یہ قانون بھی پورا ہو جاتا تھا کہ مقدم کو مقدم اور مؤخر کو مؤخر رکھو۔اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ۰۰۶فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ۰۰۷وَ مَا عَلَيْكَ (کیا) جو شخص (حق سے) بے پرواہی کرتا ہے۔(اس کی طرف) تو تُو خوب توجہ کرتا ہے؟ حالانکہ تجھ پر اَلَّا يَزَّكّٰىؕ۰۰۸ (اس وجہ سے) کوئی الزام نہیں کہ وہ پاک نہ ہو گا۔حَلّ لُغَات۔اِسْتَغْنٰی اِسْتَغْنٰی غَنِیَ سے باب استفعال ہے۔غَنِیَ غِنًا کے معنے ہوتے ہیں۔وہ مالدار ہو گیا۔اور اِسْتَغْنٰی کے معنے ہوں گے۔اُس نے چاہا کہ وہ مالدار ہو جائے۔نیز اِسْتَغْنٰی عَنْہُ بِہٖ کے معنے ہوتے ہیں اِکْتَفٰی اُس نے ایک چیز کے مل جانے سے دوسری سے لاپرواہی کی (اقرب) پس اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی کے معنے ہوں گے وہ جو مال کا طالب ہے (۲) وہ جو لاپرواہی کرتا ہے۔تَصَدّٰی تَصَدّٰی اصل میں تَتَصَدّٰی ہے جو تَصَدّٰی کا مضارع ہے۔تَصَدّٰی لَہٗ کے معنے ہیں تَعَرَّضَ وَھُوَالَّذِیْ یَسْتَشْرِفُہٗ نَاظِرًااِلَیْہِ۔کسی چیز کے سامنے آیا۔اور شوق سے اس کو دیکھا۔اور تَصَدّٰی لِلْاَمْرِ کہیں تو معنے ہوں گے رَفَعَ رَاْسَہُ اِلَیْہِ اپنا سر اس کی طرف توجہ کے لئے اٹھایا (اقرب) پس تَصَدّٰی کے معنے ہوں گے۔تُو اس کے سامنے آتا ہے (۲) تُو اس کی طرف توجہ دیتا ہے۔تفسیر۔یہاں عام انسانوں کی حالت بیان کرتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے