تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 235
فائدہ اٹھاتا۔یہاں یُدْرِیْکَ سے مراد وہ خیال ہو گا جو بعض مسلمانوں کے دل میں اُس وقت پیدا ہوا یا ہو سکتا تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے معترض تجھے کس نے بتایا ہے کہ اگر عبداللہ بن ام مکتوم کی طرف توجہ کی جاتی تو وہ ضرور فائدہ اٹھاتا۔آخر لوگ مرتد بھی ہو جاتے ہیں اور باوجود ایمان کے بڑے بڑے دعووں کے اُن پر بعض دفعہ ایسا وقت بھی آجاتا ہے جب اُن کی تمام کوششیں ایمان کے خلاف صرف ہونے لگ جاتی ہیں۔پس جب حالت یہ ہے اور تغیّرات کے مختلف دور آتے رہتے ہیں تو تمہارے پاس کون سا ذریعہ ایسا ہے جس سے تمہیںپتہ لگ گیا کہ فلاں شخص کی طرف توجہ کرنا زیادہ مفید تھا۔انبیاء کا مقام بیشک ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ کسی شخص سے کوئی بات کہیں تو خواہ وہ کیسے ہی اہم کام میں مشغول ہو اور خواہ اس کو ترک کرنا کتنا ہی تکلیف دِہ ہو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو ترک کر دے اور نبی کی بات سننے کی طرف متوجہ ہو جائے اور درحقیقت یہی ایمان کی علامت ہے خدا کے رسول کی آواز کے بعد کسی انسان کا کوئی حق نہیں رہتا کہ وہ دوسرے امور کی طرف متوجہ رہے۔پس مقامِ نبوت رکھنے والا انسان یا اُس کا نائب اگر کسی شخص کو اپنی طرف متوجہ کرے اور وہ شخص مثلاً اُس وقت کسی کو تبلیغ کر رہا ہو تو خواہ قطع کلامی کو لوگ بدتہذیبی سمجھیں اس کا فرض ہو گا کہ وہ تبلیغ کو بند کر دے اور خدا کے رسول اور اس کے نائب کی بات سننے کی طرف متوجہ ہو جائے۔اگر ابن ام مکتوم تبلیغ کر رہے ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو بلاتے تو اُن کا فرض تھا کہ وہ تبلیغ کو چھوڑ دیتے اور اس بات کی پروا نہ کرتے کہ اگر میں نے ایسا کیا تو اس کو تہذیب کے خلاف سمجھا جائے گا۔مگر عبداللہ بن ام مکتوم کو یہ مقام حاصل نہیں تھا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تو آپ اُس کی طرف ضرور متوجہ ہوجاتے اور دوسروں کو تبلیغ چھوڑ دیتے۔یہ بھی ایک قیاس تھا کہ اگر کفار کی طرف توجہ کی گئی تو ان کو فائدہ نہ ہوگا۔اور یہ بھی ایک قیاس تھا کہ اگر عبداللہ بن ام مکتوم کی طرف توجہ کی جاتی تو اُسے فائدہ ہوتا۔کوئی قطعی اور یقینی بات نہیںتھی اور جب یہ دونوں قیاسی باتیں تھیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض تھا کہ اخلاق جس بات کی تائید میں تھے اس کو اختیار کرتے اور جس بات کی اخلاق اجازت نہیں دیتے اس کی طرف توجہ نہ کرتے اسی وجہ سےآپ نے عبداللہ بن ام مکتوم کی طرف تو توجہ نہ کی اور کفار کی طرف ہی تمام توجہ رکھی۔پس مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤىمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اے معترض تُو جو کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی کی تجھے کس نے بتایا ہے کہ ابن اُم مکتوم کے لئے تزکیہ حاصل کرنا ممکن تھا دوسرے کے لئے نہیں۔یہ اور بات ہے کہ اُس نے بعد میں تزکیہ حاصل کر لیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پتہ تھا کہ کل اس کا کیا انجام ہو گا اور یہ ہدایت پر قائم بھی رہے گا یا نہیں۔بہرحال جب خدا نے کہا ہے کہ جو شخص تمہارے گھر میں آئے تم اس کا احترا م کرو اور جب خدا