تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 228
کی وجہ سے اُنہیں آپ کا مقرب ہونا چاہیے تھا اور جیسا کہ واقعات ثابت کرتے ہیں وہ آپ کے مقرب ہی تھے۔چنانچہ بعد میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا انہیں دو دفعہ اپنے بعد مدینہ کا امیر مقررکرنا اسی بات کا ثبوت ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کا احترام پایا جاتا تھا اور آپ اُن کے خاندانی اثر کے قائل تھے۔پس یہ دلیل بھی اس واقعہ کے غلط ہونے کا ایک بیّن ثبوت ہے۔سورۃ کی پہلی آیات میں مفسرین کو پیش آنے والی مشکلات کا حل میرے نزدیک ان آیات میں ہی خدا تعالیٰ نے ایک حل رکھ دیا ہے جس کی طرف مفسّرین نے توجہ نہیں کی۔اُن کا ذہن ادھر گیا ہے مگر وہ اس کی اَوراور توجیہیں کرتے رہے ہیں۔اور وہ حل یہ ہے کہ ان آیات کی بناوٹ اور ان کی ترتیب پر ہمیں غور کرنا چاہیے۔یہ آیات اس طرح ہیں عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى۔اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى۔وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى۔اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى۔اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۔فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى۔وَ مَا عَلَيْكَ اَلَّا يَزَّكّٰى۔وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ يَسْعٰى۔وَ هُوَ يَخْشٰى۔فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى۔اِن آیات میں عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى۔اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى۔تین غائب کے صیغے ہیں۔یعنی کسی نے عَبُوْس اختیار کیا۔کسی نے تَوَلّٰٓی کی اور کسی کے پاس اَعْمٰی آیا۔لیکن آگے فرماتا ہےوَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى تجھ کو کس نے بتایا کہ اس کے متعلق یہ امید کی جا سکتی تھی کہ وہ تزکیہ حاصل کر لے گا۔یہاں غائب کی بجائے مخاطب کا صیغہ آگیا۔اسی طرح اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۔فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى۔میں مخاطب کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے گویا یہاں کچھ غائب کے صیغے ہیں اور کچھ مخاطب کے صیغے ہیں ان غائب اور مخاطب کے صیغوں کے متعلق چار ہی صورتیں ہیں۔(۱) یا تو ہم غائب اور مخاطب دونوں کو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق سمجھیں۔(۲) یا ہم غائب اور مخاطب دونوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر کے متعلق سمجھیں یعنی یا تو ہم یہ سمجھیں کہ عَبَسَ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے اور مَایُدْرِیْکَ بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے اور یا ہم یہ سمجھیں کہ عَبَسَ بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے متعلق ہے اور مَایُدْرِیْکَ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے متعلق ہے (۳) اور یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ عَبَسَ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے اور مَا یُدْرِیْکَکسی اور کے متعلق ہے (۴)اور یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ عَبَسَ کسی اور کے متعلق ہے اور مَایُدْرِیْکَ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے۔یہ چار ہی صورتیں ہیں جو بن سکتی ہیں اور ہمیں یہ تعیین کرنا ہے کہ اِن چاروں میں سے اصل بات کیا ہے۔پہلے ہم اس بات کو لے لیتے ہیں کہ یہاں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہی نہیں عَبَسَ بھی غیر نے کیااور مَایُدْرِیْکَ بھی غیر سے تعلق رکھتا ہے مگر اس طرح چونکہ آیات کے معنے بالکل غیر معقول ہو جاتے ہیں اس لئے ہمیں ان میں