تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 226

ہی نہیں۔لیکن اگر فرض بھی کر لو کہ وہ حقیر تھے تو اُن کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کی غربت کی وجہ سے یا ان کے ادنیٰ ہونے کی وجہ سےان کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔کیونکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم غرباء کی طرف خاص طور پر توجہ کیا کرتے تھے اور کبھی کسی شخص کو محض اُس کے غریب ہونے یا اس کے ادنیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تحقیر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں مکّہ کی زندگی میں ہی آپ غلاموں کو تبلیغ کرتے اور بعض دفعہ گھنٹہ گھنٹہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ اُن کے پاس کھڑے رہتے اور انہیں محبت اور پیار کے ساتھ اسلام کی باتیں پہنچاتے حالانکہ وہ نہایت ادنیٰ طبقہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ دو عیسائی غلاموں کے متعلق تاریخ میں ذکر آتا ہے کہ وہ نہایت شوق سے انجیل پڑھا کرتے تھے جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اُن کے اندر یہ مذہبی جو ش پایا تو آپ بہت خوش ہوئے اور آپ نے سمجھا کہ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا جائے۔چنانچہ آپ اُن کے پاس جاتے اور بڑی بڑی دیر تک اُن کے پاس بیٹھے رہتے وہ عیسائی غلام آہن گری کا کام کرتے تھے۔وہ لوہا کوٹتے جاتے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس کھڑے ہو کر انہیں تبلیغ کرتے رہتے (تفسیر فتح البیان زیر آیت ولقد نعلم انھم یقولون۔۔۔)۔پس وہ شخص جو گلیوں میں ادنیٰ ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے پاس کھڑا ہو جاتا تھا۔جو غلاموں کو کئی کئی گھنٹے تبلیغ کرتا رہتا تھا۔جو غریب اور معمولی طبقہ کے لوگوں سے ملنے میں اپنی کوئی ہتک محسوس نہیں کرتا تھا۔اُس کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کی طرف محض اس لئے متوجہ نہ ہوا کہ وہ غریب آدمی تھا۔جو شخص غلاموں کے ساتھ برسرِ بازار گفتگو کرنے سے نہیںگھبراتا تھا اور جو شخص اُن کو تبلیغ کرنے میں اپنی کوئی ہتک محسوس نہیں کرتا تھا اُس کے لئے یہ کوئی شرم کی بات نہیں تھی کہ وہ ابن ام مکتوم سے بات کر لیتا بشرطیکہ اخلاق اس بات کی اجازت دیتے۔پانچویں دلیل۔(۵) پانچواں ردّ اس کا یہ ہے کہ اگر یہ توبیخ تھی اور اگر اس آیت کے ذریعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ ڈانٹا گیا تھا تو پھر چاہیے تھا کہ آپ اپنے رویّہ کو بدل لیتے کیونکہ ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کے بعد ابن ام مکتوم کو بلایا اور اُسے کہا کہ بتائو تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہو تمہاری خاطر تو خدا نے مجھ کو ڈانٹا ہے۔(تفسیر فتح البیان زیر آیت ھذا) پس اگر یہ واقعہ درست ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اپنا سابق طریقِ عمل بدل لینا چاہیے تھا اور آئندہ یہ دستورُالعمل بنا لینا چاہیے تھا کہ جب بھی کوئی شخص آپ کی بات میں دخل دیتا آپ فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جاتے اور اپنے سلسلۂ کلام کو منقطع کر دیتے۔مگر ہمیں تاریخ سے ایسے واقعات نظر آتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بعد