تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 217

کو خود ظاہر کرے گا۔چنانچہ اسلام کی تاریخ کو دیکھ لو جتنے لوگ چُنے گئے وہ وہی ہیں جن کی صداقت اور نیکی کا دشمن معترف تھا۔لیکن اس زمانہ کے ماحول کے مطابق اگر دنیا کو کہا جاتا کہ اس کام کے لئے آدمیوں کو چنو تو وہ کبھی اُن کو نہ چنتی۔کیونکہ گو اُن کے اندر مخفی قابلیتیں تھیں لیکن ایک مبہم خیال سے زیادہ لوگ ان کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔آخر مکّہ والے ابو بکرؓ کی قابلیت کے تو قائل تھے مگر سرداری کے لئے توانہوں نے ابو جہل،عتبہ اور شیبہ کو ہی چنا ہوا تھا۔کیونکہ ابو بکرؓ کے اندر وہ ایک مبہم نیکی پاتے تھے۔ظاہری قابلیتیں ان کو عتبہ، شیبہ اور ابو جہل میں ہی نظر آتی تھیں۔اسی طرح عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، زیبرؓ اور طلحہؓ وغیر ہم میں سے ایک بھی نہیں تھا جس کو قوم نے اپنی سرداری کے لئے منتخب کیا ہو۔اسی طرح یمن میں مثلاً ابوموسیٰ اشعری ایمان لائے اور یہود میں سےعبداللہ بن سلام ایمان لائے۔مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر اُن کی قومیں منتخب کرتیں تو وہ انہی لوگوں کو کرتیں۔یقیناً وہ دوسروں کو کرتیں لیکن اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک مبہم اقرار اُن کی نیکی کا لوگوں کے دلوں میںضرور موجود تھا۔غرض یہ لوگ ایسے تھے کہ قوم میں کسی تغیر کا پیدا کرنا ان سے متوقع نہیں ہو سکتا تھا۔مگر تغیر پیدا انہوں نے ہی کیا اور جن سے تغیر متوقع ہو سکتا تھا وہ محروم رہ گئے۔پس یہ ایک نہایت ہی اہم معاملہ قومی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس مضمون پر اس سورۃ میں خاص طور پر بحث کی گئی ہے کہ جب قوموں پر تغیر کا زمانہ آتا ہے تو اصل قابلیتیں دب جاتی ہیں اور جھوٹی قابلیتیں ابھرآتی ہیں لوگوں کے مزاج کچھ ایسے بگڑ جاتے ہیں کہ حقیقی نیکی کو وہ پسند نہیں کرتے اور مظاہرے اور بناوٹ اور قوم کی رگ پہچاننے کو وہ زیادہ قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ اس شخص کو آگے نہیں آنے دیتے جو حقیقی لیڈر ہو۔بلکہ اُسے آگے لاتے ہیں جو نام کا تو لیڈر ہو لیکن واقعہ میں قومی رسوم اور عادات کے پیچھے چلنے والا ہو اس لئے زمانۂ ظلمت کی اصلاح کے لیڈر کا چننا لوگوں کے لئے ناممکن ہوتا ہے کیونکہ ان کی فطرتیں مسخ اور غلامانہ بن چکی ہوتی ہیں جو اس نیک جدّت کو بھی جو رسم ورواج کے خلاف ہو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں پس اس انتخاب کا حق اللہ تعالیٰ اپنے قبضہ میں رکھتا ہے کیونکہ خدا کی نظر دلوں پر ہوتی ہے صرف منہ کی باتیں وہ پسند نہیں کرتا۔ایک عام انسان تو کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ لوگ لائق ہیں تو آگے کیوں نہیں آگئےلیکن خدا جانتا ہے کہ اُن کا آگے نہ آنا حالات کے ناسازگار ہونے کی وجہ سے ہے۔قوم کے حالات ہی گندے ہو جاتے ہیں اور اس گندی زمین میں کوئی پاکیزہ درخت اُگ ہی نہیں سکتا اور جب تک اس زمین میںسے اُن کو نہ اکھاڑا جائے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔اسی کی طرف سورۂ نازعات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ قابل تو یہ ہیں مگر زمین خراب ہے اس زمین میں یہ اُگ نہیں سکتے۔اب ہم ایک نئی زمین ان لوگوں کے لئے پیدا کریں گے تب اُن کی قابلیتیں تمہیں نظر آنے لگ جائیں گی۔چنانچہ ہم