تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 216

نوّے فی صد ی احتمال یہ ہو گا کہ غرباء جلدی دین کو سیکھیں گے۔اگر کسی نبی کی جماعت زیادہ تر امراء کی طرف توجہ رکھے گی تو وہ اپنے دائرہ ترقی کو محدود کر دے گی۔بے شک امراء بھی آتے ہیں مگر نسبت سے کم۔اس فرق کو بھی قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔مضمون کے لحاظ سے اس کا پہلی سورۃ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ میںاور اس سے بھی پہلی سورۃ میںیہ بیان کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کی ترقی مقدر کی ہے اور اس کے ذرائع بھی بتائے گئے تھے جو یہ تھے۔وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا۔اب یہ بتاتا ہے کہ جس طرح ساعت کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ وہ کب ظاہر ہو گی۔اسی طرح اس بات کا علم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ وہ کن لوگوںکے ہاتھ سے ظاہر ہو گی اور وہ نَازِعَات اور نَاشِطَات اور سَابِحَاتِ اور سَابِقَات اور مَدَبِّرَات بننےوالے کون ہوں گے مطلب یہ کہ وہ لوگ جو قوم میں بظاہر بڑے نظر آتے ہیں بظاہر بڑے ہوشیار اور کام کرنے والے دکھائی دیتے ہیں۔ہماری یہ مراد نہیں کہ تمہیں وہ لوگ مل جائیں گے کیونکہ ہو سکتا تھا کہ یہ خیال کر لیا جاتا کہ النَّازِعَات سے فلاں فلاں آدمی مراد ہیں یا فلاں فلاں کام کرنے والے مراد ہیںیا فلاں فلاں بڑے آدمی مراد ہیں اور اس طرح قیاس کر لیا جاتا کہ یہ یہ شخص اس سے مراد ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا نہیں ہے جس طرح خدا تعالیٰ نے ساعت کا علم اپنے پاس رکھا ہوا ہے اسی طرح نَازِعَات بننے والی روحیں اور نَاشِطَات اور سَابِحَات اور سَابِقَات اور مُدَبِّرَات بننے والی روحیں بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہی ہیں تم اُن کے متعلق کوئی قیاس نہیں کر سکتے۔تم ظاہر میں سمجھو گے کہ فلاں فلاں شخص قابل ہیں لیکن درحقیقت وہ اندرونی طور پر قابل نہیں ہوں گے۔یہ علم بھی سَاعَۃ کی طرح خدا تعالیٰ نے اپنے پاس ہی رکھا ہوا ہے گویا اَلنَّازِعَات کے مستحق لوگ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں وقت پر وہ اُن کو لاتا جائے گا خود اُن کی جستجو کرنا مفید نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کی سُنّت ہے کہ وہ اپنے سلسلہ کو اُن لوگوں کی معرفت ترقی نہیں دیتا جو پہلے سے جانے بوجھے ہوتے ہیں بلکہ اُن کے ذریعہ سے ترقی دیتا ہے جو کلّی طور پر اُس دین سے عزت پاتے ہیں جن کی نسبت یہ کہا جائے کہ دین نے اُن سے عزت پائی وہ سچے دین کے قابل نہیں۔سچے دین کے قابل وہی ہوتا ہے جس کے متعلق کہا جائے کہ دین سے اُس نے عزت پائی۔نبی کے زمانہ میں اُس کے اَتباع خدا تعالیٰ کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ اے لوگو! اُس کو مان لو۔بلکہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگو یہ وہ ہیں جن کو میں خدمت دین کے لئے چُنتا ہوں۔پس اس سورۃ میں اَلنَّازِعَات کی جماعت کی تشریح کی گئی ہے اور اُن کے انتخاب کا طریق بتایا گیا ہے جو یہ ہے کہ وقت پر اللہ تعالیٰ اُن