تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 208
انسان کو گناہ سے بچاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی شان اور عظمت کا خوف اعلیٰ مقام رکھنے والے مومن کو گناہوںسے بچاتا ہے اور مُجرم کے طور پر اُس کے سامنے پیش ہونے کا خوف ادنیٰ درجہ کے انسان کے لئے نجات کا موجب ہوتا ہے۔بڑا مجرم تو کسی بات کی بھی پروا نہیں کرتا لیکن چھوٹا مجرم ڈرتا ہے کہ اگروہ اسی جرم کی حالت میں خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوا تو اُس کو کیا جواب دے گا۔لیکن بڑا مومن خدا تعالیٰ کے درجہ اور اُس کی شان کو دیکھ کر ڈرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے اور بھی ترقی کرنی چاہیے میرا رب چھوٹے مقام پر رہنا پسندنہیں کرتا بلکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ اُس کا بندہ اُس کی محبت اور قرب کے مراتب میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى۔ھَویٰ کے معنے ہوا و ہوس اور خواہشاتِ نفسانی کے بھی ہوتے ہیں اور ھَویٰ کے معنے گرنے کے بھی ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ چونکہ بلند ہے اور ہوا وہوس کی پیروی انسان کو نیچے کی طرف لے جاتی ہے اس لئے جو شخص خواہشاتِ نفسانی کے پیچھے چلتا ہے وہ گر جاتا ہے اور گرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے بہت دور چلا جاتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ یہاں تلازم کے طور پر ایک ایسا لفظ لایا ہے جو خدا تعالیٰ سے دور جانے کی حقیقت کو بھی واضح کر رہا ہے کیونکہ ھَویٰ صرف خواہشاتِ نفسانی کو ہی نہیں کہتے بلکہ گرنے کو بھی کہتے ہیں اس میں درحقیقت اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خواہشاتِ نفسانی کی پیروی انسان کو گرا دیتی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس لئے ایساانسان اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستوں سے دُور چلا جاتا ہے۔يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۳ وہ تجھ سے اس گھڑی کے متعلق پوچھتے ہیں (کہ) اس کا آنا کب ہو گا فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ۰۰۴۴ تجھے اس کے (آنے کے)ذکر سے کیا تعلق۔حَلّ لُغَات۔اَلسَّاعَۃُ۔اَلْقِیَامَۃُ وَقِیْلَ اَلْوَقْتُ الَّذِیْ تَقُوْمُ فِیْہِ الْقِیَامَۃُ۔السَّاعَۃَ کے معنے قیامت کے ہیں۔اور بعض کہتے ہیں اس وقت کا نام سَاعَت ہے جس میں قیامت برپا ہو گی۔اَلْبُعْدُ۔دُوری اَلْمُشَقَّۃُ۔تکلیف اَلْھَالِکُوْنَ۔ہلاک ہونے والے لوگ۔اس معنے میں سَاعَۃٌ سَائِع کی جمع سمجھی جائے گی۔نیز