تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 203
میںایک دوسرا مسلمان سابق غلام آگیا۔پھر تیسرا اور پھر چوتھا آیا۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یکے بعد دیگرے سات مسلمان جو کسی زمانہ میں کفار مکہ کے غلام ہوا کرتے تھے آ پہنچے۔شاید اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے اُن کو سبق دینا چاہتا تھا۔ان میں سے ہر ایک جب مکان میں داخل ہوتا تو حضرت عمرؓ ان سے فرماتے ذرا پیچھے ہٹ جائواور ان کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو۔چنانچہ ہر مسلمان غلام کے آنے پر وہ پیچھے ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ جوتیوں میں جا پہنچے اور تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اُٹھ کر باہر آگئے۔باہر نکل کر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ کچھ دیکھا آج ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوا ہے اور مجلس میں ہماری کتنی بڑی ذلّت کی گئی ہے۔ہم وہ ہیںجو بادشاہوں کے درباروں میں بھی عزت کی جگہ حاصل کرتے تھے مگر آج ایک ایک حبشی غلام کو جو ہمارے باپ دادا کی خدمتیں کیاکرتے تھے ہمارے مقابلہ میں عزت دی گئی اور ہمیں ہر دفعہ پیچھے ہٹایا گیا یہاں تک کہ ہم جوتیوں میں جا پہنچے۔یہ کتنی بڑی ذلّت ہے جو آج ہماری ہوئی ہے۔اِس پر اُنہی میں سے ایک شخص جو زیادہ سمجھدار تھا بولا کہ تم جو کچھ کہتے ہو ٹھیک ہے مگر تم یہ بھی تو سوچو کہ اس میں کس کا قصور ہے عمرؓ کا قصور ہے یا ہمارا اپنا قصور ہے؟ جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دعویٰ فرمایا تو اُس وقت یہی حبشی غلام تھے جو آپ پر ایمان لائے مگر ہمارے باپ دادا نے آپ کی مخالفت کی اور شدید مخالفت کی۔پس اگر اُن کو زیادہ عزت سے بٹھایا گیا ہے اور ہمیں ان کے آنے پر پیچھے بٹھایا گیا ہے تو یہ بالکل درست ہوا ہے وہ اسی بات کے مستحق تھے کہ ان کو عزت کا مقام دیا جاتا اور ہم اس بات کے مستحق تھے کہ ہم کو پیچھے ہٹایا جاتا کیونکہ ہمارے باپ دادا نے اسلام کی مخالفت کی اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے محروم رہے۔انہوں نے کہا یہ تودرست ہے مگر کیا اس ذلّت کو دور کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔اور کیا ایسا کوئی طریق نہیں ہے جس سے اس رسوائی کا ازالہ ہو سکے؟ آخر سب نے سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ہمیں تو کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی چلو حضرت عمرؓ سے ہی دریافت کریں کہ اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔چنانچہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اُس وقت تک مجلس برخاست ہو چکی تھی اور دوسرے لوگ واپس جا چکے تھے۔وہ السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے اور انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا آج ہمارے ساتھ جو ہوا وہ آپ نے دیکھ لیا ہم اُسی کے متعلق کچھ کہنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں معذرت کرتا ہوں کیونکہ میرے لئے سخت مجبوری تھی۔یہ وہ لوگ تھے جن کا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ادب کیا کرتے تھے اور جن کا ادب میرا آقا کرتا رہا میرا بھی فرض ہے کہ میں اُن کا لحاظ کروں اور اُنہیں دوسروں پر ترجیح دُوں مجھے افسوس ہے کہ اس سے آپ کو تکلیف ہوئی مگر میرے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا ہم سمجھ گئے ہیں کہ آپ نے جو کچھ کیا درست کیاہم صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا اس ذلّت کو دُور کا