تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 192

انسان کا بے عیب ہونا اس کی بلندی اور وصول الی اللہ سے تعلق رکھتا ہے اس آیت میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کا بے عیب ہونا بھی اُس کی بلندی اور وصول الی اللہ سے تعلق رکھتا ہے۔دنیا میں خواہ بڑے بڑے صنّاع ہوں۔بڑے بڑے انجینئر ہوں۔بڑے بڑے مہندس ہوں یہ دنیا یوں معلوم ہوتی ہے جیسے وحشیوں سے بھری ہوئی ہے نہ انہیں اخلاق کا خیال ہوتا ہے نہ انہیں روحانیت کی طرف توجہ ہوتی ہے نہ انہیں خدا تعالیٰ کی محبت کا احساس ہوتا ہے وہ مادی دنیا اور اس کے لذائذکی طرف اسی طرح جھکے ہوئے ہوتے ہیں جس طرح جانور کھانے پینے کی طرف متوجہ رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء آتے ہیںتو پھر وہی دنیا جو وحشت و بربریت کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے حسین صورت میںنظر آنے لگتی ہے۔دلوں میں اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔آنکھوں میں محبت کی چمک ظاہر ہونے لگتی ہے۔وہ دل جو کبھی خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اب اُن میں بھی محبت کی ٹیسیں اُٹھنی شروع ہو جاتی ہیں اور دنیا رہنے کے قابل نظر آنے لگتی ہے۔اُس وقت وہی فلسفی جو خدا سے دُور ہوتا ہے انبیاء کے نور کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے بڑے بڑے انجینئر اور صناع اور موجد جن کی طاقتیں ضائع ہو رہی ہوتی ہیں پھر صحیح راستوں پر چلنے لگ جاتے ہیں اور اُن کے سارے عیب اور اُن کی ساری کمزوریاں جاتی رہتی ہیں پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم دنیا کو بے عیب دیکھنا چاہتے ہو تو آسمان کی ضرورت سے کبھی انکار مت کرو۔جس طرح عالمِ کبیر میں کوئی زمین آسمان کے بغیر نہیں رہ سکتی اسی طرح عالمِ صغیر کا حُسن اس وقت تک ظاہر نہیں ہوسکتا جب تک آسمان سے وحی نازل نہ ہو اللہ تعالیٰ کا کلام نازل نہ ہو اور انبیاء اس کے حسن کو نمایاں کرنے والے مبعوث نہ ہوں اگر تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے زمین کے قیام کے لئے آسمان بنا یا اور آسمان کے قیام کے نتیجہ میں ہی زمین بے عیب بنی تو پھر تمہیںیہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کا الہام بھی ضروری ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام نہ اُترے اگر اس کی طرف سے انبیاء مبعوث نہ ہوں تو پھر دنیا میں عیب ہی عیب نظر آئیں۔کمزوریاں ہی کمزوریاں دکھائی دیں۔گناہ ہی گناہ چھائیں رہیں۔خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اور اُس کے انبیاء کی بعثت ہی ہے جو دنیا کے عیوب کو ڈھانکتی ہے اور جس کے بعد وہ ایک حسین صورت میں دکھائی دینے لگتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تفصیل بتائی ہے کہ اُس نے کس طرح تسویہ کیا اور اس کے کیا کیا نتائج ظاہرہوئے۔