تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 191
نسبت ہی ہوتی ہے لیکن جب ہم سَمْکٌ کہتے ہیں تو اس سے مراد نیچے سے اوپر کی طرف جانا ہوتا ہے مگرقرآن کریم سَمْکٌ کا لفظ بیان کرنے کے بعد نیچے سے اوپر کی طرف جانے کی بجائے اُوپر سے نیچے کی طرف آیا ہے چنانچہ آسمان کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۔وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا۔اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۔وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ۔یہاں بلندی کی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے بیان کیا ہے اور زمین کی چیزوں کو بعد میں بیان کیا ہے۔پس قرآنی ترتیب کے مطابق ان لوگوں کے معنے زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں جو کہ سَمْک اوپر سے نیچے کی طرف نسبت رکھنے کو کہتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ درحقیقت یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہو۔فَسَوّٰھَا۔پھر ہم نے اُس کو بے عیب بنایا۔کہتے ہیں سَوَّی الشَّیْ ءَ: جَعَلَہٗ سَوِیًّا اَیْ لَا دَاءَ بِہٖ وَلَا عَیْب (اقرب) کسی چیز کو ایسا بنایا کہ اس میں کوئی عیب نہ رہے۔تفسیر۔فرماتا ہے اگر تم نظامِ عالم پر نظر دوڑائو تو تمہیں معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ ساری چیزیں نامکمل رہتیں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلندیاں نہ بنائی جاتیں۔اِن بلندیوں نے زمین کے نقائص اور اُس کے عیوب کو ڈھانک دیا ہے اور تمام چیزیں ایک مکمل صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ سورج اور چاند اور ستارے اور دوسرے بڑے بڑے سیّارے نہ بناتا تو زمین کا قیام بالکل ناممکن ہوتا۔درحقیقت سورج چاند اور ستاروں کی کشش کی وجہ سے ہی زمین رہنے کے قابل ہوئی ہے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلندی پر ان اجرامِ فلکی کو پیدا نہ کیا جاتا تو وہی زمین جو آج تمہیں بے عیب دکھائی دیتی ہے وہی زمین جو تمہارے کھانے کا سامان پیدا کرتی ہے۔وہی زمین جو تمہارے لئےپینے کا سامان مہیا کرتی ہے۔اُسی زمین میں تمہیں سَو سَو خرابیاں نظر آتیں بلکہ درحقیقت یہ زمین بنی نوع انسان کے رہنے کے قابل نہ ہوتی۔آسمان ہی ہے جس نے زمین کے عیوب کو ڈھانکا۔اور وہی بلندیاں ہیں جن سے دن پیدا ہوا جس میں تم کسبِ معاش کے ذرائع اختیار کرتے ہو۔اور انہی بلندیوں کے نتیجہ میں رات پیدا ہوئی جس میں تم آرام کرتے ہو اور اپنی کھوئی ہوئی طاقتوں کو دوبارہ حاصل کرتے ہو۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اُس نے آسمان بنایا اور اُس آسمان کو بلندی کی نسبت وسیع کیا۔فَسَوّٰىهَا میں فاء نتیجہ اور ترتیب کے لئے ہے مراد یہ ہے کہ اُس نے بلندی کو بہت اونچا کیا اور پھر اُسے اونچا کر کے اُس کے نتیجہ میں زمین کوبے عیب بنایا۔گویا فَسَوّٰىهَاکی فاء اس مضمون کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ دنیا کا نظام کبھی مکمل نہ ہوتا اگر اس کے اوپر ایک اور نظام قائم نہ ہوتا۔