تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 15
قَدْ تَجِیْ ئُ بَعْدَالطَّلَبِ لِنَفْیِ اِجَابَۃِ الطَّالِبِ کَقَوْ لِکَ لِمَنْ قَالَ لَکَ اِفْعَلْ کَذَا۔کَلَّا۔اَیْ لَا یُجَابُ اِلٰی ذَالِکَ یعنی لفظ کَلَّا کسی مطالبہ کے جواب میں آتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ مطالبہ کرنے والے کی بات ماننے کے لئے ہم تیار نہیں۔چنانچہ جب ہمیں کوئی کسی امر کےکرنے کے لئے کہےاور ہم سمجھیں کہ یہ بات ایسی نہیں کہ کوئی مان سکے تو ہم کہیں گے کَلَّا پھر علّامہ ابوالبقاء لکھتے ہیںوَقَدْ جَاءَ بِمَعْنیَ حَقًّا۔یعنی کبھی لفظ کَلَّا، حَقًّا کے معنے میں آتا ہے یعنی اس کے بعد بیان کی جانے والی بات کی تاکید کرتا ہے کہ یہ بات درست ہے جیسے قرآن مجید میں ہے کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی یعنی یہ بات درست ہے کہ انسان سرکشی کرتا ہے۔(اقرب ) سَیَعْلَمُوْنَ وہ ضرور جان لیں گے۔سؔ توکید کے معنوں میں یہاں آیا ہے ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ یہاں ثُمَّ کا لفظ تکرار مضمون کے لئےاستعمال ہوا ہے یعنی پھر ہم کہتے ہیں کہ وہ بات اُس طرح ہر گز نہیں جس طرح وہ خیال کرتے ہیں۔تفسیر۔سَیَعْلَمُوْنَ وہ ضرور جان لیں گے یعنی قیامت کے دن ان کے یہ خیالات بالکل غلط ثابت ہوں گے اور اُن پر واضح ہو جائے گا کہ وہ کیسی کھلی غلطی میں مبتلا رہے۔یا قرآن کریم مراد لیتے ہوئے اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ایک دن آئے گا جب قرآن کریم کی صداقت اُن پر کُھل جائے گی۔اور غلبۂ اسلام پر جب ان آیات کو چسپاں کیا جائے گاتو مفہوم یہ ہو گا کہ آخر اسلام ایک دن غالب آجائے گااور وہ سمجھ لیں گے کہ اسلام کی مخالفت کر کے انہوں نے کیسا غلط طریق اختیار کیا تھا۔اب اگلی آیتو ںمیں اللہ تعالیٰ اپنے اس دعوےٰ کی دلیل دیتا ہے اور وہ دلیل ایسی ہے جو مذکورہ بالا تینوں معنوں پر چسپاں ہو سکتی ہے۔یعنی اس دلیل سے نہ صرف قیامت کا وجود ثابت ہوتا ہے بلکہ غلبۂ قرآن اور غلبۂ اسلام کا بھی اسی سے ثبوت مل جاتا ہے۔(اس آیت اوراگلی آیات کی تفسیر یکجائی طور پرآیت نمبر۸ یعنی وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا کی آیت کے نیچے دی گئی ہے کیونکہ ان آیات کا مضمون اکٹھا ہے) اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ۰۰۷ (سوچیں تو سہی کہ) کیاہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔حل لغات۔اِلْمِھَادُ: الْمِھَادُ اَلْفِرَاشُ وَالْاَرْضُ(اقرب ) یعنی مِھَاد کا لفظ فراش کے معنوں میں