تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 185

میں سے کوئی ایک بات ہی بیان کر دی جائے وہاں یقینی اور قطعی طور پر یہ قیامت کی دلیل بن جاتی ہیں کیونکہ یہ تینوں دلیلیں ایسی ہیں جو قیامت کے ساتھ لازم ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان میں سے جو بات بھی ثابت ہو جائے وہ قیامت کو ضرور ثابت کر دے گی۔پس یہ اعتراض جو آجکل کے مفکرین کی طرف سے کیا جاتا ہے بالکل غلط ہے اور قرآن کریم کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى ٢ؕؒ۰۰۲۷ یقیناً اس (واقعہ) میں اس کے لئے جو خدا سے ڈرتا ہے ایک بڑی عبرت (کا سامان) ہے حل لغات۔اَلْعِبْرَۃُ اَلْعِبْرَۃُکے معنے ہیں (۱) اَلْاَصْلُ الَّذِیْ تُرَدُّ اِلَیْہِ النَّظَائِرُ۔ایسا اصل جس کی طرف اس کے امثال کو لوٹا کر ان کی حقیقت و اصلیت معلوم کی جا سکے (۲) اَلنَّظْرُ فِیْ الْاَحْوَالِ حالات میں غور وفکر کر کے اُن کی حقیقت کو پانا (۳)اَلْعِظَۃُ یُتَّعَظُ بِھَا ایسی بات جس سے نصیحت حاصل کی جا سکے (اقرب) اس کی جمع عِبَرٌ آتی ہے۔تفسیر۔عبرة سے مراد عبرت سے مراد یہ ہے کہ اِس سے اُخروی زندگی کی دلیل دی جا سکتی ہے۔ایک نہیں متعدد مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ اُخروی زندگی کو دنیوی روحانی اِحیاء سے ملا کر خدا تعالیٰ کے انبیاء نے پیش کیا ہے اور ناممکن حالات میں اِحیاء کر کے اُخروی زندگی کا ثبوت دیا ہے پس اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہو اور ضد اور تعصّب کا مادہ اُس میں نہ ہو تو وہ اِس سے اُخروی زندگی پر یقین اور ایمان اپنے دل میں پیدا کر سکتا ہے۔عِبْرَۃٌ عَبُوْرٌ سے نکلا ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کو کہتے ہیں۔پس عِبْرَۃٌ کے معنے ہوتے ہیں ایک بات سے دوسری کا نتیجہ نکالنا۔گویا وہ پُل کی طرح ایک طرف سے دوسری طرف عبور کا سامان کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دلیل بھی ایسی ہے جو انسانی دماغ کو ضرور اس طرف لے جاتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی ایک قیامت ہونے والی ہے۔ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ۰۰۲۸ کیا تمہیں پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کو جسے اس (خدا) نے بنایا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل اور سخت ہے اَمِ السَّمَآءُ بَنٰـھَایا آسمان و زمین کی