تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 184

حلوا اس طرح بنتا ہے کہ پہلے سُوجی لی جائے پھر اُسے گھی میں بُھونا جائے پھر اُس میں میٹھا ملایا جائے اور پانی میں ملا کر آگ پر اُسے دم دیا جائے وہ جب چاہے گا حلوا بنا لے گا اُسے کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔اِسی طرح جب خدا تعالیٰ کو مخلوق کے متعلق علمِ تام حاصل ہے اور وہ کائنات کے تمام اسرار جانتا ہے تو اس کے لئے مردوں کو زندہ کر دینا کون سا مشکل کام ہے جس نے یہ کام ایک دفعہ کر لیا وہ اُسے دوسری دفعہ بھی کرلے گا۔غرض یہ تین دلیلیں ہیں جو اللہ تعالیٰ قیامت کے ثبوت میں دیا کرتا ہے اس لئے لوگوں کا یہ اعتراض کرنا کہ ایک غیب کی خبر پوری ہونے سے دوسری خبر کی صداقت کا ہم کس طرح نتیجہ نکال سکتے ہیں صحیح نہیں۔اگر صرف ایک غیب کی خبر سے دوسری غیب کی خبر کو سچّا قرار دیا جاتا تو بے شک یہ اعتراض ہو سکتا مگر ہمارا تو یہ دعویٰ ہی نہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا خلق پر قادر ہونا۔اُس کا اِسی دنیا میں اِحیاء موتیٰ کر دینا اور پھر مخلوق کے متعلق علمِ تام رکھنا یہ قیامت کی دلیل ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ چونکہ لیکھرام پیشگوئی کے مطابق مر گیا اس لئے یہ ثبوت ہو گا اس کا بات کا کہ قیامت بھی آنےوالی ہے۔یا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے فلاں بیٹے کے متعلق پیشگوئی کی تھی اور وہ پوری ہو گئی ہے اِس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قیامت بھی آنے والی ہے۔ہم قیامت کے ثبوت میں اِن تین باتوں کو پیش کرتے ہیں جن کو تفصیل کے ساتھ میں بیان کر چکا ہوں۔اِن پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے اللہ تعالیٰ کا صرف جزئیات کے متعلق علم ثابت ہوتا ہے علمِ کامل ثابت نہیں ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب اِحیاء موتیٰ کی صفت ظاہر ہو تو وہ بے شک قیامت کا ثبوت ہوتی ہے کیونکہ لوگوں کے سامنے ایک نمونہ موجود ہوتا ہے کہ مردہ روحیں نبی کے فیضِ صحبت اور اُس کی قوتِ قدسیہ سے زندہ ہو گئیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس خدا نے اس دنیا میں مردہ روحوں کو زندہ کر دیا ہے وہ اگلے جہان میں بھی زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔یا پھر دوسری دلیل خلق ؔکی ہے جو خدا ایک دفعہ مخلوق کو پیدا کر سکتا ہے اس کے لئے یہ کون سی مشکل بات ہے کہ وہ دوبارہ اُسی مخلوق کو پیدا کر دے۔تیسری چیز عِلمؔ کامل ہے۔جس خدا کو تمام کائنات کا علمِ تام حاصل ہے اور وہ کائنات کے اسرار کو جانتا ہے اس کے لئے بھی مخلوق کا دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔غرض یہ تین دلیلیں ہیں جو قرآن کریم قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے اور جن کو کوئی شخص ردّ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔پس بے شک آج کل تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے جو سوال کیا جاتا ہے وہ درست ہے مگر جہاں تک اُن کا یہ خیال ہے کہ قرآن کریم نے بھی اسی رنگ کو اختیار کیا ہے وہ غلط ہے۔ہم اس بات سے کلیۃً متفق ہیں کہ بعض پیشگوئیاں یقیناً ایسی ہوتی ہیں جن کو قیامت کے ثبوت کے طور پر پیش نہیںکیا جا سکتا۔لیکن ہم اس امر کے اظہار سے بھی نہیں رہ سکتے کہ جہاں یہ تین باتیں مل جائیں یا ان تین باتوں