تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 173

کے ذریعہ سے مسلمانوں کے رعب کو مٹانے کے لئے نکلے تھے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو لے کر نکلے کہ تا علاقہ پر کفار کا رعب نہ پڑے گو پہلے بھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے اشارات ہو رہے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ کفار سے جنگ ہونے والی ہے مگر یہ امر واضح نہ تھا کہ ابھی ایسا ہونے والا ہے لیکن جب آپ لشکر لے کر نکلے تو آپ کو وحی سے بتایا گیا کہ دراصل کفار سے لڑائی ہونی ہے قافلہ سے مقابلہ نہیں ہو گا۔مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ابھی یہ بات بتائیں نہیں جس وقت آپ بدر کے قریب پہنچے تو اُس وقت آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ قافلہ سامنے آجائے یا دشمن کے لشکر سے ہی مقابلہ ہو جائے اُس وقت صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! جو صورتِ حالات بھی پیدا ہو ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں مگر اب بھی اُن کے ذہن میں یہی تھا کہ لشکر سے کہاں مقابلہ ہونا ہے قافلہ والوں سے ہی مقابلہ ہو گا۔مگر جب آپ بدر کے مقام پر پہنچے تو وہاں کفار کا لشکر موجود تھا اُس وقت آپ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ بولو اب کیا رائے ہے؟ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس جنگ میں صرف تین سو تیرہ صحابہ شامل ہوئے ورنہ مسلمانوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی۔اس قدر تھوڑی تعداد میں مسلمان اسی لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے تھے کہ ان کا خیال تھا کہ غالبًا مقابلہ کوئی نہ ہوگا اس لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت نہیں مگر جب قافلہ کی بجائے لشکر سے مقابلہ ہو گیا تو بعض صحابہؓ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کے لئے مقامِ حفاظت بنا دیتے ہیں تا کہ آپ محفوظ رہیں۔اور آپ کے پاس ایسی تیز رفتار اونٹنیاں باندھ دیتے ہیں جو نہایت مضبوط ہوں۔یا رسول اللہ! اگر ہم سب کے سب اس جنگ میں مارے جائیں تو ہماری درخواست ہے کہ آپ ان تیز رفتار اونٹنیوں پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں وہاں ہمارے بھائی موجود ہیں جن کے دلوں میں ویسا ہی اخلاص موجود ہے جیسا ہمارے دلوں میں ہے اور جو دین کے لئے قربانی کی ویسی ہی روح رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ جنگ ہونے والی ہے ان کا یہی خیال تھا کہ شاید جنگ نہ ہواور اسی لئے وہ ساتھ نہیں آئے۔آپ ہمارے اُن بھائیوں کو ساتھ لے کر پھر ان کفار کا مقابلہ کر سکتے ہیں (السیرۃالحلبیۃ باب غزوۃ بدر)دوسری طرف کفار کا یہ حال تھا کہ جب انہوں نے سنا کہ قافلہ بچ کر نکل آیا ہے تو ابو جہل اور دوسرے بڑے بڑے سرداروں نے کہا چلو ہم ذرا عیش کر آئیں اور خوشی منائیں کہ مسلمان ہمارے قافلہ کو روک نہیں سکے۔پس وہ بھی لڑائی کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے بلکہ اُن کا منشاء یہ تھا کہ ہم تین دن دعوتیں کریں گے شرابیں پئیں گے اور خوب عیش منائیں گے اور علاقہ پر رعب ڈالیں گے۔پس اپنی طرف سے وہ عیش منانے کے لئے آئے تھے اور سمجھتے تھے