تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 165
جائو گے کام کرنے والوں کے لحاظ سے قوم زیادہ ہوا کرتی ہے نہ کہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے قوم بڑی ہوتی ہے۔اور جب دوسری اقوام کے کارکنوں پر یہ شوق اور خدمت میںغالب آجائیں گے تو لازمًا حکومت بھی اُن کے قبضہ میں آجائے گی۔چنانچہ فرماتا ہے فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا جب یہ کام کے لحاظ سے تم پر غالب آگئے ہیں تو لازمًا ایک دن حکومت اُن کے ہاتھ میںآجائے گی تمہارے ہاتھ میں نہیں رہ سکتی۔یہ چار معنے ہیں جو میں نے اِن آیات کے بتائے ہیں اور ان چاروں معنوں کے لحاظ سے آیات میں ایک ترتیب نظر آتی ہے اور جو اضطراب گزشتہ مفسرین کے معنوں میں پایا جاتا ہے کہ کبھی نَازِعَات سے مراد ستارے مراد لے لئے اور کبھی فرشتے اور پھر اگلی آیات کے متعلق کہنا کہ اُن میں بھی یہی مضمون پایا جاتا ہے وہ اضطراب ان معنوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہےاور یہ سب کے سب ایسے معنے ہیں جو ترتیب کے ساتھ سب آیات پر چسپاں ہو جاتے ہیں۔يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ۰۰۷ ( ان کا ظہور اس دن ہو گا) جس دن جنگ ( کی تیاری) کرنے والی (قوم) جنگ کی تیاری کرے گی۔حَلِّ لُغَات۔تَرْجُفُ تَرْجُفُ رَجَفَ سے مضارع مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور رَجَفَ (یَرْجُفُ) رَجْفًا کے معنے ہیں حَرَّکَہٗ فَرَجَفَ ھُوَاَیْ تَحَرَّکَ وَاضْطَرَبَ شَدِیْدًا کسی چیز کو زور سے حرکت دی اور وہ حرکت میں آگئی اور زور سے ہلنے لگی۔اور جب رَجَفَ الرَّجُلُ کہیں تو معنے ہوں گے اِضْطَرَبَ شَدِیْدًا کانپنے لگا۔اور رَجَفَتِ اَلْاَرْضُ کے معنے ہیں زُلْزِلَتْ۔زمین ہلا دی گئی یعنی بھونچال آگیا۔اور رَجَفَ الْقَوْمُ کے معنے ہیں تَھَیَّاءُ وْلِلْحَرْبِ۔قوم لڑائی کے لئے تیار ہو گئی (اقرب) تفسیر۔سورۃ نازعات کی پہلی پانچ آیات میں کی ہوئی پیشگوئیوں کے ظہور کا وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ یعنی اوپر کی باتیں اُس دن سے کامل طور پرظاہر ہونی شروع ہوں گی جب کانپنے والی کانپے گی یا یہ کہ جب اوپر کی تمام باتیں ہو جائیں گی تو پھر وہ دن آئے گا جسے ہم خصوصیت کے ساتھ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ دن ایسا ہوگا کہ کانپنے والی کانپے گی۔گویا ایک صورت میں یَوْمَ جو ظرف واقعہ ہوا ہے ان باتوں کے شروع ہونے سے تعلق رکھتا ہے اور دُوسری صورت میں اُن کے ختم ہونے سے تعلق رکھتا ہے۔یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ سے مراد یہ ہے کہ ایک دن آئے گا جب مسلمان قوم جنگ کے لئے تیار ہو جائے گی۔تم