تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 164
مانگتے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ جب ہم اس قدر کام کرتے ہیں تو ہمیں کچھ معاوضہ بھی ملنا چاہیے بلکہ وہ جس طرح ہو سکے اپنے گھر سے گزارہ کرتے اور قوم کا کام کرتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم کو اَنْ گنت کام کرنے والے مل رہے ہیں اور پھر یہ محمدصلے اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر کامل طور پر چلنے والے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم انہیں لڑنے کے لئے کہتے ہیں تو یہ لڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں صلح کے لئے کہتے ہیں تو ـصلح کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔صدقہ و خیرات کا حکم دیتے ہیں تو وہ اپنا سارا مال صدقہ وخیرات میں لٹانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جس کا محمدصلے اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیں اور پھر انہوں نے معاوضہ کے طور پر کوئی پیسہ نہیں مانگنا اس کا ذکر کے اللہ تعالیٰ کفار مکّہ کو بتاتا ہے تم غور کرو اور سوچو کہ تم ان مسلمانوں کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہو۔ہر مسلمان قومی خادم ہے۔ہر مسلمان قومی سپاہی ہے۔ہر مسلمان اپنا مال ٹیکس میں دینے کے لئے تیا ر ہے اور جب حالت یہ ہے تو تم ان کا مقابلہ کہاں کر سکتے ہو۔فرض کرو مکّہ والوں میں سے پچاس فیصدی لوگ کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تب بھی وہ مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ مسلمان سو فیصدی کام کرنے والے تھے اور سَو کا پچاس مقابلہ نہیں کر سکتے۔پھر صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ وہ مفت کام کرتے تھے مگر مکّہ والوں میں یہ روح نہیں تھی۔اسی طرح صحابہؓ جس شوق سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کی تعمیل کرتے تھے اس شوق سے مکہ والے اپنے سرداروں کے احکام کی کہاں اطاعت کر سکتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بیشک مسلمانوں کی تعداد تمہارے مقابلہ میں تھوڑی ہے مگر دُنیا میں تعداد سے فتح نہیں ہوتی بلکہ کام کرنے والوں سے فتح حاصل ہوتی ہے اور کام کرنے والے مسلمانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔تم میں نہیں پائے جاتے۔السّٰبِقٰتِ سَبْقًامیں مسلمانوں کے سب قوموں سے بڑھ جانے کی وجہ کا ذکر اس کے بعد فرماتا ہے فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًایہاں فاء کا استعمال لازمی نتیجہ کے معنوں میں ہوا ہے یعنی جب مسلمانوں کی حالت یہ ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس مفت خدمت کی وجہ سے اسلام کو اَنْ گنت کام کرنے والے مل جائیں گے اور لازمًا یہ ان لوگوں اور قوموں پر فتح پا جائیں گے جن میں مفت خدمت نہیں ہے۔فرماتا ہے جب یہ سارے کے سارے اپنے گھر سے روٹی کھا کر خدمت کریں گے تو تم ان کا کس طرح مقابلہ کر سکو گے بے شک تعداد سے لحاظ سے تم زیادہ ہو مگر کام کرنے والوں کے لحاظ سے وہ زیادہ ہیں۔اگر ایک قوم کی دس لاکھ تعدادہو اور اس میںسے سپاہی صرف چند سَو ہوں اور دوسری قوم کی تعداد اگرچہ چند سَو ہو مگر وہ ساری کی ساری سپاہی ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب مقابلہ ہو گا زیادہ تعداد رکھنے والی قوم ہار جائے گی اور دوسری قوم جیت جائے گی۔تو فرماتا ہے تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم جیت