تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 163

اگر انہیں اپنا وطن قربان کرنا پڑا تو یہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کو قربان کر دیں گے۔نَازِعَاتِ غَرْقًا میں مسلمانوں کی جسمانی قربانی کی طرف اشارہ نَازِعَات میں مسلمانوں کی جسمانی قربانی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کیونکہ جسمانی قربانی اُس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک محنت و مشقت برداشت کرنے کی عادت انسان میں پیدا نہ ہو۔اور بتایا گیا تھا کہ مسلمان اس بارہ میں اعلیٰ درجہ کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں وہ بدیوں سے رُک بھی سکتے ہیں اور نیکیوں کے حصول کی تڑپ بھی رکھتے ہیں۔بے شک قومی عادات کی وجہ سے بدیوں کے ترک کرنے میں انہیں محنت کرنی پڑتی ہے مگر وہ اس محنت کو برداشت کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر صرف اسی حد تک نہیں بلکہ نیکیوں کے میدان میں بھی ترقی کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔اب نَاشِطَاتِ میں یہ بتایا کہ وہ نہ صرف جسمانی قربانی کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں بلکہ وطن کو قربان کرنے کا مادہ بھی اُن کے اندر پایا جاتا ہے تم یہ نہ سمجھو کہ خواہ تمہاری طرف سے کس قدر مظالم ہوتے گئے وہ اُن کو برداشت کرتے چلے جائیں گے ہم تمہاری توجہ مسلمانوں کے اُن گروہوں کی طرف مبذول کراتے ہیں جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر باہر نکل جائیں گے۔درحقیقت وطن کو چھوڑنا بھی قومی ترقی کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔السّٰبِحٰتِ سَبْحًامیں مسلمانوں کے مفت طور پر قومی کام کرنے کی طرف اشارہ۔پھر فرماتا ہے وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔سَبَحَ الرُّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں تَصَرَّفَ فِیْ مَعَاشِہٖ یعنی آدمی اپنی روزی کمانے میں لگا ہوا ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تنخواہ کا قوم پر کوئی بار نہیں۔اپنے دنیوی کام کر کے اپنا گزارہ کرتے ہیں اوراس وجہ سے قوم کو اَنْ گنْت کارکن مل رہے ہیں۔درحقیقت قومی ترقی کے راستہ میں ایک بڑی روک یہ ہوتی ہے کہ مفت کام کرنے والے نہیں ملتے۔اسی وجہ سےحکومتیں تنخواہ دار فوجیں رکھتی ہیں۔تنخواہ دار مدرس رکھتی ہیں۔تنخواہ دار کام کرنے والے رکھتی ہیں۔اگر اسلام کی بھی یہی حالت ہوتی تو مسلمان کس طرح ترقی کر سکتے۔مسلمانوں کے پاس نہ مال تھا کہ وہ تنخواہیں دے سکتے۔نہ اتنی وسعت تھی کہ اس بار کو برداشت کر سکتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ جزبہ ودیعت کر دیا کہ وہ قومی کاموں کے لئے مفت خدمات پیش کرتے تھے۔وہ گھر سے کھانا کھاتے اور ملک اورقوم کے لئے اپنے اوقات کو صرف کرتے گویا وہ ایسے وجود تھے جن کا جماعت پر کوئی بار نہیں تھا۔بلکہ وہ مفت کے کارکن تھے۔پس اللہ تعالیٰ ان آیات میں صحابہؓ کا نقشہ کھینچتاہے کہ ایک طرف وہ تمام بدیوں سے بچتے ہیں۔دوسری طرف تمام نیکیوں کے میدان میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تیسری طرف وطن کی قربانی اُن کی نگاہوں میں بالکل ہیچ ہے اور چوتھی طرف ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کوئی پیسہ نہیں