تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 162
اس نقل کے نتیجہ میں ایک دن آئے گا جب یہ سارے اپنے اپنے درجہ کے مطابق محمدصلے اللہ علیہ وسلم بنے ہوئے ہوں گے اور وہی کمالات جو محمدصلے اللہ علیہ وسلم میں پائے جاتے ہیں ان میں بھی پیدا ہو جائیں گے اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق تم بھی مانتے ہو کہ اُن جیسا سردار اور لیڈر سارے عرب میں اور کوئی نہیں۔جب یہ لوگ ایسے شخص کی مشابہت اختیار کر رہے ہیں تو یہ ایک لازمی امر ہے کہ اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی تمام خوبیوں کے حامل ہو جائیں گے۔النّٰشِطٰتِ نَشْطًا میں مسلمانوں کے دور دور پھیل جانے کی پیشگوئی وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا پھر دوسری خوبی ان میں یہ ہے کہ یہ دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔نَشَطَ کے ایک معنے پھیل جانے کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں نَشَطَ مِنَ الْمَکَانِ: خَرَجَ۔وَمِنْ بَلَدٍ اِلَی بَلَدٍ : قَطَعَ یعنی نَشْطٌ کے معنے سفر کرنا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی ہوتا ہے پس وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا کے یہ معنے ہوئے کہ یہ لوگ دنیا میں پھیل جانے والے ہیں۔ان کے دلوں میں اپنے وطن کی جھوٹی محبت نہیں بلکہ تم دیکھو گے کہ یہ اپنے وطن چھوڑنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے مگر تمہارے ظلموں کو برداشت نہیں کریں گے۔درحقیقت اسلام نے ہی سب سے پہلے اس مسئلہ کو پیش کیا ہے کہ وطن بے شک اچھی چیز ہے لیکن وطن سے زیادہ قیمتی چیز صداقت ہے۔اگر وطن میںرہنے سے صداقت کو چھوڑنا پڑتا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ وطن کو چھوڑ دو اور صداقت کو قائم رکھو۔اسی کی طر ف اللہ ایک دوسری جگہ اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ مَنْ يُّهَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ( النساء:۱۰۱)گویا بتایا کہ وطن بے شک اچھی چیز ہے جیسا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہےکہ حُبُّ الْوَطْنِ مِنَ الْاِیْمَانِ (تشیید المبانی فی تخریج احادیث مکتوبات الامام ربانی صفحہ۲۵) مگر جب اس محبت کے مقابلہ میں صداقت اور ایمان کی محبت آجائے اور تمہیں مظالم کا تختۂ مشق بنایا جائے تو وطن بے شک چھوڑ دو اور صداقت کی حفاظت کو مقدم رکھو۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دلوں پر وطن کی محبت اس قدر غالب ہوتی ہے کہ خواہ انہیں کس قدر دکھ دئے جائیں وہ وطن کو چھوڑنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتے۔مگر فرمایا یہ مسلمان وہ ہیں جنہیں ہم نے نَاشِطَاتِ بنایا ہے جو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنے وطن کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے اور وقت آنے پر اس کو قربان کر دیں گے چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد مسلمانوں نے دو دفعہ ہجرت کی۔ایک دفعہ حبشہ کی طرف اور دوسری دفعہ مدینہ کی طرف پس مسلمانوں کو نَاشِطَاتِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وطن کی جھوٹی محبت جوایک جگہ سے باندھ دیتی ہے اُن کے دلوں میں نہیں ہے