تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 159

صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا سوال ہے مکّہ والے اُن کو ذلیل سمجھا کرتے تھے مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ آپ نعوذ باللہ ذلیل ہیں۔بے شک ایک منافق نے ایک دفعہ آپ کو ذلیل کہہ دیا تھا مگر مکّہ والے تسلیم کرتے تھے کہ آپ کے اندر وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک کامیاب لیڈر کے اندر پائے جانے چاہئیں۔اور وہ آپ کی قابلیت کے منکر نہیں تھے۔بے شک وہ سمجھتے تھے کہ آپ غریب ہیں۔آپ کے پاس مال و دولت نہیں ہے مگر جہاں تک ذاتی قابلیت کا سوال ہے وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے قائل تھے آپ کو امین اور صدوق سمجھتے تھے اور اپنی قوم کے جھگڑوں میں آپ سے فیصلہ کرانے پر تیار ہو جایا کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم آج مسلمانوں کوذلیل سمجھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ اُن میں کوئی قابلیت نہیں مگر تمہیں کچھ پتہ بھی ہے کہ قابلیتیں کس طرح پیدا ہوا کرتی ہیں۔قابلیت حاصل ہونے کا صرف ایک ہی طریق ہے کہ اچھا اُستاد مل جائے اور شاگرد اس کا کامل طور پر تتبع کرے۔یہ واحد ذریعہ ہے اعلیٰ درجہ کی قابلیتیں اپنے اندر پیدا کرنے کا کہ کسی کو اچھا استاد مل جائے اور وہ اس استاد کی پوری پوری نقل کرے۔مسلمانوں کا آنحضرت صلعم کے مشابہ ہو جانا پس فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا یہ مسلمان تو وہ ہیں جو اپنے باپ کے مشابہ ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اور محمد صلے اللہ علیہ وسلم وہ ہیں جن کی قابلیت کا تم میں سے کسی کو بھی انکار نہیں۔تم اُسے دعویٰ سے پہلے ہی صدوق اور امین تسلیم کرتے تھے جیسا کہ نبیوں کے متعلق یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ انہیں بعثت سے قبل قوم میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور ان کی قابلیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے کہ لوگوں نے اُن سے کہا یَا صَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ (ھود:۶۳)کہ اے صالح! ہم توتجھ پر امید لگائے بیٹھے تھے کہ تو ایک دن ہماری قوم کا لیڈر بنے گا مگر تُو نے ہماری امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔تو جہاں تک انبیاء کا تعلق ہے بعثت سے قبل ہی لوگ ان کی قابلیتوں کو تسلیم کرنا شروع کر دیتے ہیں مگر یہ کہیں قانون نظر نہیں آتا کہ انبیاء پر ایمان لانے والوں کو دشمن ذلیل قرار نہ دیتے ہوں۔ابتداء میں انبیاء پر ایمان لانے والے چونکہ زیادہ تر غرباء اور ادنیٰ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے لوگ انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بھی ایمان لانے والے چونکہ زیادہ تر غرباء تھے(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ) اس لئے مکّہ والے انہیں سخت حقارت سے دیکھتے تھے۔اسی طرح ظاہری علوم کے لحاظ سے مسلمان بہت پیچھے تھے چنانچہ