تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 156
اُسے باہر نکال دیں گے یا اسے جیت لیں گے اور اس کی اصلاح کر لیں گے۔بہرحال وہ اُس شکل میں اس کو نہیں رہنے دیں گے جس شکل میں وہ پہلے دکھائی دیتا تھا۔یہ دو قابلیتیں ہیں جو قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دونوں قابلیتیں مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔پس وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کے یہ معنے ہوئے کہ وہ رُوحیں جو رکنے والی ہیں بُری باتوں سے اور بد روحیں جو اُن میںآجائیں اُن کو دبا لینے والی ہیں۔وَ النّٰزِعٰتِ کے دوسرے معنے جیسا کہ بتا یا جا چکا ہے اشتیاق کے ہوتے ہیں اس لحاظ سے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ نیکیوں کی طرف اس طرح رغبت کرتے ہیں جیسے انسان اپنے اہل وعیال کی طرف رغبت کرتا ہے گویا وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں رُکتے بلکہ اُن کے اندر امانت اور انصاف اور رحم اور خوش خلقی اور محنت اور علم اور غرباء پروری اور اقرار احسان اور جرأت اور سخاوت اور ہمسایہ کی خبر گیری۔مسافروں کا خیال۔یتیموں کا خیال اور بیوائوں کا خیال۔صفائی کا خیال۔عفّت اورایسی ہی سب نیکیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ نہ صرف ان کے حصول کی کوشش کرتے ہیں بلکہ بعض کو یہ نیکیاں ایسی پیاری لگتی ہیں جیسے بچہ کو اپنی ماں سے یا ماں کو اپنے بچہ سے پیار ہوتا ہے۔وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا پھر فرماتا ہے ان نیکیوں کے حصول میں عاداتِ قومی کی وجہ سے انہیں محنت تو کرنی پڑتی ہے مگر وہ محنت کر کے یہ کام کرتے چلے جاتے ہیں اور اس کام میں جو صعوبتیں آئیں اُن سب کو برداشت کرتے ہیں۔نَشَطَ کے ایک معنے ڈول کو بغیر چرخی کے نکالنے کے ہوتے ہیں گویا محنت اور مشقت کرنا اس کے مفہوم میں شامل ہے کیونکہ چرخی ہو تو پانی آسانی سے نکل آتا ہے اور اگر چرخی نہ ہو تو بہت زور لگانا پڑتا ہے پس عربی میں یہ محاورہ ہے کہ جب کسی کے متعلق اس امر کا اظہار کرنا ہو کہ اس نے بڑی محنت اور مشقت سے کام لیا تو کہتے ہیں اِنْتَشَلَھَا بِلَا بَکْرَۃٍ اس نے پانی بغیر چرخی کے نکالا پس وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا میں صحابہؓ کی یہ خوبی بیان فرمائی کہ اُن کو نیکیوں میں ترقی کرنے کا اس قدر خیال ہے کہ اس راستہ میں انہیں کوئی بھی قربانی کرنی پڑے وہ اس سے دریغ نہیں کرتے بعض لوگوں کو نیکیوں سے رغبت بھی ہوتی ہے مگر جب کام کا وقت آئے تو اُن کا دل ڈر جاتا ہے اور وہ نیکی میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ انہیں قربانی سے کام لینا پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر نہ صرف یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ انہیں نیکیوں کے حصول کا شوق ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ دوسری خوبی بھی اُن کے اندر پائی جاتی ہے کہ وہ نَاشِطَات ہیں یعنی ہر قسم کی محنت برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اُن کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا۔کوئی مددگار نہیں ہوتا۔کوئی نیکیوں پر اکسانے والا نہیں ہوتا۔کوئی پیٹھ ٹھونکنے والا اور قومی خدمات پر شاباش کہنے والا نہیں ہوتا۔مگر پھر