تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 12
میں اختلاف موجود تھا کوئی کچھ کہتا تھااور کوئی کچھ کہتا تھا۔قرآن کریم کی صورت میں بھی یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ اس پر کس طرح چسپاں ہو سکتا ہے اور وہ اس بارہ میں کیا اختلاف کیا کرتے تھے وہ تو قرآن کریم کی صداقت کے قائل ہی نہیں تھے بلکہ کہتے تھے کہ یہ محض جھوٹ ہے اس میں سچائی کا کوئی شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔مگر میرے نزدیک یہ سوال بھی درست نہیں اس لئے کہ قرآن کریم کے متعلق بھی ان کو اختلاف تھا۔بعض اس کا نام سحر رکھتے تھے۔بعض اُسے کذب قرار دیتے تھے (المدثر:۲۵) اور بعض اس کا نام اَسَا طِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (الانفال :۳۲) رکھتے تھے یہ سیدھی بات ہے کہ اَسَا طِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہنے والوں کے نزدیک قرآن کریم جھوٹا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اگر قرآن کریم اُن کے نزدیک جھوٹا ہوتا توا س کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ اپنے باپ دادا کوبھی جھوٹا قرار دیا کرتے تھے حالانکہ یہ صحیح نہیں۔پس ان کاقرآن کریم کو اَسَا طِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ قرار دیناہی بتا رہا ہے کہ اُن میں سے بعض کو قرآن کریم کے متعلق یہ اعتراض نہیں تھا کہ یہ کلام جھوٹا ہے بلکہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ اس میں اُن کے باپ دادا کی باتوں کو ہی نقل کر دیا گیا ہے اس لئے ہم اس کو بطور خدا کی کلام کے نہیں مان سکتے۔پس عربوں میں قرآن کریم کو اَسَا طِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ کہنے والے بھی موجود تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں قرآن کریم کے متعلق اختلاف تھا۔اسی طرح قرآن کریم کو سحر کہنے والے بھی اُن میں موجود تھےاور قرآن کریم کو جھوٹا قرار دینے والے بھی ان میں موجود تھے۔پس قرآن کریم کی صورت میں بھی یہ آیت پوری طرح چسپاں ہو جاتی ہے کہ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ یعنی وہ نبأ عظیم ہے جس میں کفّار اختلاف کرتے ہیں۔تیسر ا پہلو غلبۂ اسلام کا ہے ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ اس کے متعلق ان کو کہا ں اختلاف تھا تو اس کے متعلق بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ غلبۂ اسلام کے متعلق بھی کفار میں اختلاف موجود تھاکفّار جانتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسی روح کام کررہی ہے جو ایک دن اُن کو ہم پر غالب کر دے گی۔چنانچہ اُن کا اسلام کی شدید ترین مخالفت کرنااور اس کی ترقی کو روکنے کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کرنا خود اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ وہ ڈرتے تھے کہ اسلام اُن پر غالب آجائے گااور وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر ایسی چیز موجود ہے جو اُن کے مقابلہ میں ہم کو مغلوب کردے گی۔اور یہی سچے نبی کی علامت ہوا کرتی ہے کہ مخالفوں کے دلوں میں پہلے سے یہ ڈر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ ایک دن یہ لوگ ہم کو کھا جائیں گے اور ہماری طاقت کو توڑ کر رکھ دیں گے۔وہ ایک طرف یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ ہم ان کو مار دیںگے۔ہم ان کو تباہ کردیں گے۔ہم ان کو دنیا سے مٹا دیں گے۔مگر ساتھ ہی ان کے دلوں میںیہ خطرہ بھی موجود ہوتا ہے کہ یہ شخص ہم کو کھا جائے گایہی وجہ ہے کہ نبیوں کی دنیا میں شدید مخالفت ہوتی