تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 146

سے وہ تین گروہ تھے اور وہ نَازِعَات اور نَاشِطَات کہلانے کے مستحق تھے۔جب یہ تین گروہ اسلام کے جھنڈے کے نیچے آگئے تو وہ وقت آگیا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ۔ا۟لَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِيَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا١ؕ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۔اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ (الحج :۴۰ تا ۴۲) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جارہی تھی لڑائی کی اجازت دی گئی ہے اور اس لئے دی گئی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا تھا اور اس لئے اجازت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے اگر اس جنگ کے نتیجہ میں انہوں نے فنا ہوجانا ہوتا تو وہ ان کو کبھی جنگ کی اجازت نہ دیتا اس کی اجازت دینا ہی اس بات کاثبوت ہے کہ خدا ان کی مدد کا ذمہ وار ہو گیا ہے۔وہ لوگ ایسے ہیں جو اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر اس کے کہ کوئی وجہ ہوتی۔صرف اس بناء پر کہ انہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ تعالیٰ بعض قوموں سے بعض کا شر دور نہ کرے تو یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں سب کی عبادت گاہیں تباہ ہو جائیں جن میں خدا تعالیٰ کا بڑی کثرت سے ذکر ہوتا ہے۔اور یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جواس کے دین کی تائیدکے لئے کھڑا ہو گا اور اللہ بڑا قوی اور غالب ہے۔وہ لوگ جن کو اب بادشاہت ملنے والی ہے ایسے ہیں کہ جب ہم ان کے ہاتھ میں نظامِ حکومت دیں گے تو وہ نمازوں کو قائم کریں گے اور زکوٰ ۃ دیں گے اور نیک باتوں کا حکم دیں گے اور بُری باتوں سے روکیں گے اور دُنیا میں اپنی نہیں خدا کی بادشاہت قائم کریں گے۔چنانچہ بدرؔکے موقع پر یہ بات پوری ہوئی۔صحابہ ؓ کو ر لڑائی کی اجازت ملی اور وہ اپنے سے تین گُنے سے بھی زیادہ دشمن کے مقابل پر جا کھڑے ہوئے اور یہ جنگ زیادہ تر تیروں کی جنگ تھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَارَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمَی (الانفال:۱۸)گو اس میں مٹھی بھر کنکروں کی طرف بھی اشارہ ہے مگر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس مٹھی کے پھینکنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے پیچھے کی طرف سے ہوا چلا دی (زرقانی مواھب اللدینیۃ للعسطلانی باب غزوۃ بدر العظمی) اور نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے تیر نشانہ پر اور زور سے لگتے اور کفار کے ہوا کے دبائو سے یا تو رستہ میں رہ جاتے یا بے اثر ہو جاتے۔اُن کے غَرْقًا ہونے کا ثبوت کہ بس ایک ہی مقصد اُن کے سامنے تھا کہ کچھ ہو۔کتنا عرصہ لگے وہ جنگ کرتے ہی چلے جائیں گے پیچھے نہ ہٹیں گے کفار کے ایک سردار عمیر بن وہب کے واقعہ سے ملتا ہے۔اُسے مکہ والوں نے