تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 145

روک نہ ہو ضروری ہے بلکہ ہر فرد کی مخصوص قابلیت کو ابھارنا قومی ترقی کا ایک اہم اور قیمتی جزو ہے۔انہی معنوں کے رو سے یہ آیات طوائف ملائکہ کی جگہ طوائفِ مومنین کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں لیکن اس تشریح کی ضرورت نہیں کیونکہ اُوپر کی تشریح کے مطابق اسے خود ہی حل کیا جا سکتا ہے۔سورۃ نازعات کی پہلی پانچ آیتوں کی تفسیر اس لحاظ سے کہ ان آیات میں طوائف انسانی مراد ہیں اب میں ان آیات کی ایک دوسری تشریح بیان کرتا ہوں اور یہ تشریح اس امر کو فرض کر کے ہے کہ اس جگہ طوائفِ ملائکہ مراد نہیں بلکہ طوائفِ انسانی مراد ہیں۔نَزَعَ کے ایک معنے تیر اندازی کے ہیں اور نَشَطَکے معنے رسیوں سے باندھنے کے ہیں۔سَبَحَ کے معنے تیرنے یا دُور دُور نکل جانے کے ہیں۔سِبَاق کے معنے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کے اور غالب آجانے کے ہیں اور تدبیر امر کے معنے نظامِ حکومت کے ہاتھ میں آجانے کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے یہ ایک پیشگوئی ہے اسلامی فتوحات کی۔سورۂ نبأ میں یوم الفصل کی طرف اشارہ کیا تھا اور اُس دن کی طرف توجہ دلائی گئی تھی جب اسلام کا غلبہ ایسے رنگ میں ہو جائے گا کہ کافر کہے گا یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا کہ اُف! اسلام اس قدر غالب آ گیا کاش میں اس سے پہلے مٹی ہو چکا ہوتا۔اسی مضمون کی تفصیل سورۂ نازعات میں بیان کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اس غلبہ کا آغاز کس طرح ہو گا اور انتہاکیا ہو گی۔فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا ہم مسلمانوں کے اُن گروہوں کو اپنے دعویٰ کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو تیر انداز ہوں گے اور ایسے تیر انداز ہوں گے کہ اِغْرَاق کی کیفیت ان کو حاصل ہوگی یعنی جب وہ اس کام میں لگیں گے تو انہیں تن بدن کا ہوش نہ رہے گا اور وہ اس کام اور مقصد کو اس انتہاء تک پہنچا دیں گے یہ صحابہؓ کے گروہ ہیں۔وہ صحابہؓ جو اس سورۃ کے نزول کے وقت صرف چند آد می تھے اور ابھی وہ ایک گروہ بھی نہیں کہلا سکتے تھے اور مظالم کا شکار تھے تلوار تو الگ رہی اپنے دشمن کے سامنے ہاتھ بھی نہ اٹھا سکتے تھے۔فرماتا ہے وہ غلبۂ اسلام کا دن جب کفار میں سے بعض کہیں گے کہ کاش ہم مٹی ہوتے اس طرح آئے گا کہ ہم اسلام کو ملک میں پھیلادیں گے۔مختلف اقوام اس میں داخل ہو جائیں گی۔لڑائی کی اجازت اُن کو مل جائے گی اور یہ اپنے جہاد کے فرض کو اس طرح ادا کریں گے کہ کسی نے اس طرح ادا نہ کیا ہو گا کیونکہ اِغْرَاق کے معنے ہیں کسی کام کو اس کی حد تک پہنچا دینا۔اب دیکھو کس طرح آئندہ زمانہ نے اس پیشگوئی کو پورا کیا۔اسلام مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچا اور ایک قوم سے دو قوم بن گیا۔آگے مدینہ میں دو قومیں بستی تھیں اوس اور خزرج۔اور وہ بھی ایک نہ تھے دونوں میں شدید رقابت تھی اس طرح وہ دو سے تین قوم بن گیا اور جمع کے صیغہ کا اُن پر اطلاق جائز ہو گیا۔چنانچہ جس دن سےمسلمانوں کو جنگ میں آنے کی اجازت ملی اُسی دن