تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 144

کر ملکی نہیں بلکہ قبائلی میلانات کی زمین میں گاڑیں ہیں اس وجہ سے وہ درخت جو ان تحریکوں سے پیدا ہوتے ہیں ایک وقت تک نشوونما پا کر یا کلی طور پر یا جزوی طور پر خشک ہوناشروع ہو جاتے ہیں اور سارے ملک کو سایہ دینے والا درخت اُن سے پیدا نہیں ہوتا۔اسلام نے شدیدقومی تعصبات کے زمانہ میں جب مدینہ جیسے معمولی قصبہ کے دو قبیلے اوس ؔ اور خزرجؔ بھی آپس میں لڑ رہے تھے مکّہ سے اوس و خزرج کو کھینچا یمن جو عرب میں سیاسی برتری کا مدعی تھا اسے اپنے تابع کیا یہود سے عبداللہ بن سلام اور ایران سے سلمان فارسی دوڑتے ہوئے آئے مگر یہ صرف اپنی قوموں کے نمائندے تھے بعد میں قومیں آئیں اور پروانوں کی طرح آئیں کیونکہ اسلام ایک تالاب کا پانی نہ تھا وہ بارش تھی جو ٹیلے پر برستی ہے اور وہ وہیں جمع نہیں ہو جاتی بلکہ دُور دُورپھیل جاتی ہے اس کے حامل قومی کارکن نہ تھے وہ بنی نوع انسا ن کے خادم تھے ہر اک نے سمجھا میں ہی اس دولت کا وارث نہیں دُوسرے ملک بھی اس میں حصہ دار ہیں چنانچہ وہ اس تعلیم کو لے کر دوڑاا ور سب جہان میں اس کی تعلیم پھیل گئی اگرو ہ تعلیم قومی اور ملکی روایا ت سے متاثر ہوتی یا اس کے ماننے والے مخصوص قوم و ملک کی برتری کے خواہش مند ہوتے تو یہ کبھی نہ ہوتا اب بھی جو قوم انہی مقصود حدود کے مطابق اپنی تعلیم اور اپنے اخلاق کو وسیع نہ کرے گی کبھی بھی اپنی مقصود حدود کو نہ پہنچ سکے گی۔اسلامی تعلیم ہر قسم کی فطرت کے لئے دوسرا سبق اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اسلام کی تعلیم حدود کے لحاظ سے ہی وسیع نہیں بلکہ طبائع کے لحاظ سے بھی وسیع ہے اور اسی کی طرف بھی نَازِعَات اور نَاشِطَات کے جمع کے صیغوں سے اشارہ کیا گیا ہے یعنی ملائکہ کے کئی کئی طوائف اس کام میں لگے ہوئے ہیں اس کے مخاطب کسی ایک فطرت کے آدمی نہیں بلکہ ہر فطرت تک وہ پہنچتی ہے اس مضمون کی تفصیل کی بھی تفسیر حامل نہیں ہو سکتی مگر یہ موٹی موٹی باتیں ذہن میں رکھو تو یہ امر سمجھ میں آجاتا ہے کہ اسلام میں سیاسی، تمدنی، معاشرتی، تجارتی، اقتصادی سب ہی قسم کے احکام بیان ہوئے ہیں پھر آقا اور ماتحت۔بیوی اور میاں۔باپ اور اولاد۔بھائی اور بھائی۔استاد اور شاگرد۔غریب اور امیر۔بادشاہ اور رعایا۔دوست اور دوست سب ہی کے متعلق غیر جانبدارانہ تعلیم موجود ہے اس کے علاوہ عبادت گزار۔سپاہی۔قاضی۔جہاد کی طرف میلان رکھنے والا۔انصاف کا دلدادہ۔تعلیم کا شیدا۔صدقہ و خیرات کا شائق اور تنظیم کا خواہش مند غرض کون سا طبعی مادہ ہے جس کے ابھارنے کی اس میں سبیل پیدا نہیں کی گئی۔پس جہاں یہ کہہ کر کہ اسلام کی تبلیغ کے لئے ہر ملک اور ہر طبیعت کے مؤکل ملائکہ مقرر کئے گئے ہیں کیونکہ اس میں ہر ملک کی طرف اور ہر طبیعت کی طرف توجہ کی گئی ہے اسلام کی برتری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں عالمگیر تحریکوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جہانگیر تحریکوں کے لئے ہر طبیعت اور ہر قوم کے لوگوں کا لحاظ رکھنا اس حد تک کہ اُن کا لحاظ قومی اور ملی کاموں میں