تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 143
مَایُؤْمَرُوْنَ (النحل :۵۱) وہ وہی کرتے ہیں جو خدا کہتا ہے۔پس ایسے انسانوں کی حکو مت کی وجہ سے جو ملائکہ کی بات مانتے ہیں دنیا پر ملائکہ کی حکومت ہو گی اور ان ملائکہ کی وجہ سے جو خدا کی ہر بات مانتے ہیں خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے گی یا تیسرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ وہ دعا جو مسیح ؑ نے کی تھی کہ اے خدا ’’تیری بادشاہت آوے۔تیر ی مرضی جیسی آسمان پر ہے زمین پر بھی بر آوے‘‘ (متی باب ۶ آیت ۱۰) وہ حضرت مسیح ؑ کے ذریعہ سے تو پوری نہ ہوئی کیونکہ جب تک اُن کی قوم نیک تھی بادشاہت نہ ملی اور جب بادشاہت ملی تو قوم مشرک ہو چکی تھی۔مگر یہ دعا محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعہ پوری ہوگئی۔اُن کو اُسی وقت حکومت ملی جب اُن کے اتباع کےدل فرشتوں کے ہاتھ میں تھے اور وہ وہی کچھ دنیا میں کرتے تھے جو فرشتے اُن سے کہتے تھے اور فرشتے وہی کچھ کہتے تھے جو خدا تعالیٰ اُن سے کہتا تھا اِس طرح اُن کے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت آسمان پر ہی نہ رہی بلکہ زمین پر بھی آگئی۔کیسی شاندار اور زبردست یہ پیشگوئی ہے اور کس طرح دشمن بھی یہ اقرار کرنے پرمجبور ہے کہ خلفاء اسلام کی بادشاہت انسانی بادشاہت نہیں تھی بلکہ اخلاق کی حکومت تھی اور یہ الفاظ غیر مسلموں کے ہاں اسی حکومت کے لئے بولے جاتے ہیں جسے اسلامی اصطلاح میں فرشتوں کی حکومت کہتے ہیں اور کیوں نہ ہم اِسے فرشتوں کی حکومت کہیں کیا یوسف ؑ کو اِنْ ھٰذَا اِلَّا مَلَکٌ کَرِیْمٌ (یوسف:۳۲ )نہیں کہا گیا تھا۔السّٰبِحٰتِ سَبْحًامیں عالمگیر ترقی کرنے کے دو اصولوں کی طرف اشارہ اس جگہ دو ضمنی باتیں بھی بیان کرنے کے قابل ہیں جو بطور قانونی سبق کے اِن آیات سے نکلتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔اوّل۔اس جگہ اسلامی ترقی کے لئےوَالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا فرمایا یعنی ابتداءمیں ہی دور دور تک اس کی اشاعت ہو جائے گی۔اِس سے اس طرف اشارہ ہے کہ اسلام کی تحریک عالمگیر کشش رکھنے والی ہے کسی ایک ملک یا قوم سے اس کو وابستگی نہیں۔قومی یا ملکی روایات کی زمین میں اس کی جڑیں نہیں گاڑیں گئیں بلکہ اخلاقِ انسانی اور جذباتِ انسانی کی زمین میں اس کی بنیادیں رکھی گئی ہیں اس لئے وہ جلد جلد دُور دُور پھیل جائے گا۔خواہ شروع میں تھوڑے لوگ ماننے والے ہوں مگر جلد ہی سب قوموں کی توجہ کو اسلام کھینچ لے گا۔جہاں اس میں اسلام کی ایک زبردست فضیلت کا اظہار ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں وہاں اس میں سب ایسی تحریکوںکے لئے جو عالمگیر ہونا چاہتی ہوں ایک نکتہ ٔ معرفت بھی بیان کیا گیا ہے۔جب تک انسان اپنے قومی تعصّب سے بالا نہیں ہو جاتا وہ کوئی عالمگیر تحریک بھی نہیں کر سکتا۔مثلاً ہندوستان صرف ایک ملک ہے دنیا نہیں۔مگر یہاں کے سیاسی لیڈر ابھی تک وطنی فضا بھی پیدا نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے اپنی تحریکوں کی جڑیں قومی دبائو کی وجہ سے یا اپنے نسبی میلانوں سے مجبور ہو