تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 142

پھر شکایت کی کہ یا رسول اللہ اس بات کا کسی طرح امیروں کو بھی علم ہو گیا ہے اور وہ بھی ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہسُبْحَانَ اللّٰہ و اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور چونتیس دفعہ اللّٰہُ اَکْبَر کہنے لگ گئے ہیں یا رسول اللہ آپ ان کو روکیں کہ وہ ایسا نہ کریں۔آپ نے فرمایا میں اُن کو نیکی سے نہیں روک سکتا (مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ باب استجاب الذکر بعد الصلوٰۃ) پھر یہ مسابقت کی روح صرف مردوں میں ہی نہیں پائی جاتی تھی بلکہ عورتوں میں بھی یہ روح کام کرتی نظر آتی تھی چنانچہ عورتوں نے ایک دفعہ احتجاج کیا کہ یا رسول اللہ مردوں میں تو آپ وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں لیکن عورتوں کو یہ موقعہ نہیں ملتااس پر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیا (بخاری کتاب العلم باب ھل یجعل للنساء یوم علی حدة فی العلم ) غرض مسلمانوںمیں کام کے متعلق یہ روح نہیں تھی کہ شکر ہے فلاں شخص نے کام کر لیا اور میرا بوجھ اُتر گیا بلکہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے تمام افراد میں یہ جوش پایا جاتا تھا کہ ہم دوسروں سے زیادہ ذمہ واری اپنے اوپر لیں۔اور یہی قومی ترقی کا راز ہے۔جب قو م کے افراد ذمہ واری کے مواقع پر دوسروں پر اس بوجھ کو ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔لیکن جب قوم کے ہر فرد میں یہ احساس ہو کہ زیادہ کام کرنے کا موقع مجھ کو ہی ملے تو وہ قوم ترقی کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہے۔صحابہؓ میں یہی مادہ پایا جاتا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کےدلوں میں نیک تحریکیں کرنے والے ملائکہ میں بھی یہی روح پائی جاتی تھی۔جب اسلام اَور پھیلا تو یہ مسابقت کی روح ایسی بڑھی کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافتِ اُولیٰ اور خلافتِ ثانیہ کے زمانہ میں بعض قبائل نے اپنی ساری آبادی ہی جنگ میں فنا کر دی۔وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلام کے لئےاس موت کے قبول کرنے میں ہمارے ساتھ دوسرے بھی شریک ہوں۔وہ ظاہری انعام وکرام میں تو دوسروں کو شریک بنانا چاہتے تھے مگر ملّی اور قومی قربانیوں میں ان کی خواہش یہی ہوتی تھی کہ موت کا پیالہ صرف ہم کو ہی ملے دوسروں کو نہ ملے۔یہ اتنا لمبا مضمون ہے کہ تفسیر اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔بہرحالفَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاکا یہ بیّن اور روشن ثبوت تاریخ کے صفحات پر موجود ہے۔صحابہ کرام ؓ کے ذریعہ اس دنیا میں خدا کی بادشاہت کا قیام فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب مسابقت والا کام ملائکہ کر لیں گے تو پھر ملائکہ مُدَبِّرَاتِ اَمْرًا ہو جائیں گے یعنی زمین پر انہی کی حکومت ہو جائے گی۔کیونکہ ملائکہ نیک تحریکیں کرنے والے ہیں۔جب زمین پر نیک لوگوں کی حکومت ہو جائے گی تو ہر محکمہ پر اُن لوگوں کا قبضہ ہو گا جو ملائکہ کی باتیں ماننے والے ہیں۔نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا پر ملائکہ کی حکومت ہو جائے گی یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے گی کیونکہ ملائکہ کے متعلق آتا ہے یَفْعَلُوْنَ