تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 141
بھول چکے تھے۔وہ اسلام میں داخل ہو کر بھائی بھائی بن گئے تھے۔مگر دین میں مسابقت کی رُوح اُن میں ایسی پیدا ہوگئی تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو مجھے میرے دشمن کی تکلیف سے بچانے کے لئے آگے بڑھے اورآپ کا مطلب اس سے کعب بن اشرف شدید دشمنِ اسلام تھا تو اوس میں سے ایک جماعت کھڑی ہو گئی اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ہم اس کام کے لئے تیار ہیں چنانچہ آپ نے وہ کام اُن کے سپرد کیا اور انہوں نے اس دشمنِ اسلام کو عام جنگی قواعد کے مطابق(نہ کہ ظلم سے) مار دیا (سیرۃ النبویۃ لابن ہشام اجزٗ الثالظ زیر عنوان مقتل کعب بن اشرف)(یہ تفصیل کا موقع نہیں۔دشمنانِ اسلام اعتراض کیا کرتے ہیں کہ آپ نے ناجائز طور پر اس کو قتل کرایا تھا لیکن اُن کا یہ الزام خلافِ تاریخ ہے۔تفصیلی بحث کے لئے دیکھو تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ ۱۹۸) جب کعب مارا گیا تو وہی مسابقت کی روح کہ اسلام میں ہم ایک دوسرے سے بڑھ کر رہیں دوسرے گروہ کے دل میں پیدا ہوئی چنانچہ قبیلہ خزرج کے لوگ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ اب ہمیں بھی کوئی ایسا ہی کام دیجئے تاکہ ہم بھی اپنے بھائیوں سے پیچھے نہ رہیں اور آخر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع کو قتل کرنے کا کام اُن کے سپرد کیا اور اس قبیلہ نے اس دشمنِ اسلام کو جا کر مارا (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام الجزء الثالث زیر عنوان مقتل سلام بن ابی الحقیق ) پھر یہ مسابقت کی روح قبائل میں ہی نہ تھی قبیلوں سے جو چھوٹے چھوٹے خاندان تھے اُن میں بھی یہ روح پائی جاتی تھی چنانچہ انصار کے دونوں قبائل کے مختلف خاندان باری باری رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا رات کو پہرہ دیا کرتے تھے مگر وہ عام طور پر بغیر ہتھیار لگائے پہرہ دیا کرتے تھے۔ایک دن رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے باہر ہتھیاروں کی آواز سنی اور پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے کسی نے دریافت کر کے بتایا کہ فلاں خاندان کے لوگ ہتھیار بند ہو کر پہرہ دینے آئے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُن کی اس روح مسابقت کو دیکھ کر پسند فرمایا۔(بخاری کتاب الجہاد باب الحراسۃ فی الغزو۔۔۔) سَابِقٰتِ سَبْقًاکے ماتحت مسلمانوں میں مسابقت کی روح پھر غریبوں اور امیروں میں مسابقت کی روح اس قدر پائی جاتی تھی کہ ایک دفعہ غرباء رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ امیر لوگ زکوٰۃ دیتے ہیں مگر ہم بوجہ مال نہ ہونے کے زکوٰۃ کے ثواب سے محروم ہیں۔اسی طرح امراء صدقہ وخیرات کرتے ہیں مگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس مال نہیں ہے۔یا رسول اللہ ہمیں کوئی ایسی نیکی بتائیں جس پر عمل کر کے ہم اُن سے پیچھے نہ رہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور چونتیس دفعہ اللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو کچھ دنوں کے بعد انہوں نے