تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 140
کا ذکر کرنے سے جو قَلَعکرتے ہیں یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرا گروہ پہلا عمل نہیں کرتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب وہ پہلا عمل کر لیں گے تو پھر یہ دوسر ا کام شروع کر دیں گے۔یعنی کفر سے بیزار کرنے کے مرحلہ کے بعد ان کے اندر ایمان کی محبت پیدا کریں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لا کر وابستہ کر دیں گے بیعت بھی باندھنا ہی کہلاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَکُنْ فِیْ عُنُقِہٖ بَیْعَۃٌ فَمَاتَ مِیْتَۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ (مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند الفتن فی کل حال) اور نَشْطٌ کے معنے بھی ہیں عَقْدُ الْحَبْل یعنی باندھنا۔پس وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا کے معنے یہ ہوئے کہ اُن لوگوں کو جو پہلے کفر سے بیزار ہو جائیں گے ان کے متعلقہ فرشتے اسلام کی طرف راغب کر کے آخر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی رسّی میں لا کر باندھ دیں گے۔پھر فرمایاوَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا اور قسم ہے اُن ملائکہ کے گروہوں کی جو تیرتے ہیں اور تیرتے تیرتے دُور نکل جاتے ہیں اِس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی ترقی کے لئے ملائکہ صرف مکّہ میں کوشش نہ کریں گے بلکہ جو مستعد روحیں مکّہ میں ہوں گی ان کو اسلام کی طرف لا کر وہ دوسرے علاقوں میں نکل جائیں گے اور وہاں جو مستعد ارواح ہوں گی انہیں اسلام کی طرف لائیں گے چنانچہ ملائکہ کی اس پرواز کا ہی نتیجہ تھا کہ ابو ذر غفاری ؓ قبیلہ غفار سے اور وفدِانصار مدینہ سے اسلام لایا۔ابو موسیٰ اشعری اور اُن کے ساتھ تعلق رکھنے والا گروہ یمن سے آیا اور سلمان فارسی فارس سے آئے اور اس طرح ایک وقت میں اسلام کے مختلف اکناف میں پھیلنے کا سامان ہو گیا۔مختلف فرشتوں کے گروہوں کا اثر صحابہ پر اس کے بعد فرمایافَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔پھر انہوں نے مقابلہ شروع کیا کہ کون بڑھتا ہے یعنی جب مختلف علاقوں میں ملائکہ قلوبِ مومنین فتح کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ہر علاقہ میں مسابقت کی رُوح پیدا ہو جائے گی اور ہر طبقہ اور ہر علاقہ کے ملائکہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے چنانچہ ملائکہ کے اضلال مومنین کے کاموں سے ہم دیکھتے ہیں کہ اُن میںایک دوسرے سے بڑھنے کی بے انتہاء تڑپ تھی اور ہر قوم دوسروں سے آگے نکلنے کی خواہش مند تھی چنانچہ زمانۂ خلافتِ اولیٰ اور ثانیہ میں اس کی اکثر مثالیں ملتی ہیں۔خود زمانۂ نبویؐ میں جب مسلمانوں کی جماعت نہایت چھوٹی سی تھی۔اس مسابقت کی روح کا کئی مثالوں سے اچھی طرح پتہ لگ جاتا ہے قوموں کے لحاظ سے مہاجر اور انصار گو دانت کاٹی روٹی کھاتے تھے اور بھائیوں سے بھی زیادہ وہ ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے مگر دین کی خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ ان میں شدید طور پرپایا جاتا تھا۔پھر انصار کے خود دوقبیلے تھے اوسؔ اور خزرجؔ۔وہ آپس کی لڑائی کو