تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 137

نہیں ہیں۔اس کے متعلق صحابہؓ کے کسی جواب کا تو مفسّرین ذکر نہیں کرتے مگر انہوں نے خود اس اشکال کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گو فرشتوں کے لئے ضمیر مذکر آنی چاہیے تھی مگر اس جگہ فرشتوں سے مراد طوائف الملائکہ یعنی فرشتوں کے گروہ ہیں اور چونکہ ضمیر طوائف کی طرف جاتی تھی اس لئے یہاں مؤنث کی ضمیر لائی گئی ہے مذکر کی ضمیر نہیں لائی گئی۔چنانچہ تمام مفسّرین اور ادیب اس امر پر اتفاق رکھتے ہیں کہ وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا اور وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاسے طوائف الملائکہ یعنی فرشتوں کے بہت سے گروہ مراد ہیں اور چونکہ نَازِعَات میں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لئے معنے یہ ہوں گے کہ فرشتوں کے گروہ در گروہ۔پس چونکہ اکثر صحابہؓ اور تابعین اور تبع تابعین اور پھر مفسّرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس جگہ ملائکہ کی طرف اشارہ ہے اس لئے لازمًا وہ اس امر پر بھی متفق سمجھے جائیں گے کہ ضمیر مؤنث طائفہ کی وجہ سے لائی گئی ہے یعنی نَازِعَات سے مراد طَوَائِفٌ مِّنَ الْمَلٰئِکَۃِ ہیں۔جہاں تک اس نقطہ نگاہ والوں کا سوال ہے جن میں اکثر صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین شامل ہیں یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ یہ خیال کہ کوئی ایک فرشتہ جسمانی طور پر اتر کر دنیا کے سب کام کرتا ہے خلافِ شریعت اور خلاف عقیدۂ قرآن ہے اگر عززائیل ہر شخص کے پاس جا کر اس کی جان نکالتا ہے تو پھر جان نکالنے کے لئے کسی طائفہ کی کیا ضرورت ہے طائفہ کی تو اُسی جگہ ضرورت ہوتی ہے جہاں کام ایک کی طاقت کا نہیں ہوتا یامتعدد کام ہونے کی وجہ سے متعدد کام کرنے والوں کی ضرورت ہو۔پس یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ عزرائیل میں لوگوں کی جان نکالنے کی طاقت نہیں اسی لئے وہ لوگوں کی جان نکالنے کے لئے اپنے ساتھ ایک جتھہ لے کر جاتا ہے اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ جان نکالنے والا طائفہ مختلف انسانوں کی اپنے اپنے رنگ میں جان نکالتا ہے۔اسی طرح باقی کاموں کے متعلق سمجھا جائےگا ورنہ اگر یہی خیال کیا جائے کہ ایک فرشتہ ہی زمین پر اتر کر تمام کام کرتا ہے تو یہ عقیدہ اسلام کے خلاف ہو گا کیونکہ اول تو ہبوطِ جسمانی ہر جگہ پر ایک شرک کے مشابہ عقیدہ ہے گویا اس طرح ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ایک ہی فرشتہ ایک ہی وقت میں حاضر بھی ہے اور غائب بھی ہے یہاں بھی ہے اور وہاں بھی ہے اور ہر جگہ ہے۔گویا محیطِ کُل ہونے اور ایک ہی وقت میں عرش وفرش پر ہونے میں وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا شریک ہے نعوذ باللہ من ذالک۔دومؔ ہبوط جسمانی کی ضرورت تو مادی اجسام میں ہوتی ہے ملائکہ تو روحانی اجسام ہیں اور ارواح لطیفہ اپنی شعائوں سے زیادہ کام کرتی ہے بہ نسبت اپنے جسم کے بدلنے کے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جتنی جتنی کوئی چیز لطیف ہوتی چلی جاتی ہے وہ بجائے اپنے مقام بدلنے کے شعاعوں سے کام لیتی ہے پس جیسا کہ ان آیات سے (جن کے ملائکہ کی نسبت ہونے پر سب متفق ہیں) ظاہر ہے ایک ایک کام پر ایک گروہ ملائکہ مقرر ہے جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ