تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 136

گے یا اَور دوسرے معنے ہوں گے جو اس مصدر سے پیدا ہوتے ہیں۔تو مصدر معنوں کی تعیین کر دیا کرتا ہے۔فعل کی شکل ایک ہوتی ہے لیکن مصدر مختلف ہونے سے ان کے معنے بدلتے چلے جائیں گے۔اب اگر قرآن کریم میں وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا کی بجائے وَالنَّازِعَاتِ نَزْعًا ہوتا تو اس کے معنے صرف اتنے ہوتے جو نَزْعًا مصدر کی صورت میں نَزَعَ کو حاصل ہوتے ہیں یا اگر وَالنَّازِعَاتِ نَزْعًا کی بجائے وَالنَّازِعَاتِ نُزُوْعًا ہوتا پھر نَازِعَات کے وہ معنے ہوتے جن پر نُزُوْعًا کا مصدر دلالت کرتا ہے یا اگر نَازِعَات کے ساتھ نِزَاعًا آجاتا تو پھر وہ معنے ہوتے جو نَزَعَ نَزَاعَۃً وَنِزَاعًا سے ظاہر ہوتے ہیں تو عربی زبان میں مصدرکا دہرانا محض تاکید کے لئے نہیں ہوتا بلکہ معنوں کی تعیین کے لئے بھی ہوتا ہے لیکن جب کسی فعل کا مصدر نہ آئے بلکہ باہرسے کوئی لفظ آجائے جیسے وَالنَّازِعَات کے ساتھ غَرْقًا رکھ دیا گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے تمام مصدروں کے معنوں میں سے جو بھی اس جگہ چسپاں ہو سکتے ہوں مراد لئے جا سکتے ہیں۔اگرنَازِعَات کے ساتھ نَزْعًا مصدر ہوتا تو ہم صرف وہ معنے کرتے جو نَزْعًا سے ظاہر ہوتے ہیں۔اگر نُزُوْعًا مصدر ہوتا تو ہم صرف وہ معنے کرتے جو نُزُوْعًا سے ظاہر ہوتے ہیں۔اگر نَزَاعَۃً یا نِزَاعًا مصدر ہوتا تو ہم صرف وہ معنے کرتے جو نَزَاعَۃً یا نِزَاعًا سے ظاہر ہوتے ہیں اور اس طرح آیت کے معنے محدود ہو جاتے لیکن جب وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا کہہ دیا گیا تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ نَزَعَ کے سارے مصادر کے معنے اس مقام پر چسپاں ہو سکتے ہیں گویا اِس طریق سے اس طر ف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم سب معنوں کو دیکھو اور پھر غور کرو کہ اس آیت کے کیا معنے ہیں۔اسی طرح آگے آتا ہے وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا اس کے بھی دو مصدر ہیں ایک نَشَطَ یَنْشُطُ نَشَاطًا اور ایک نَشَطَ یَنْشُطُ نَشْطًا یہاں نَشْطًا کہہ کر معنوں کو وسیع نہیں کیا بلکہ ان کو محدود کر دیا گیا ہے اور بتا دیا گیا ہے کہ اس آیت کے وہی معنے ہو سکتے ہیں جن پر نَشْطًا مصدردلالت کرتا ہے نَشَاطًا مصدر و الے معنے اس مقام پر چسپاں نہیں ہو سکتے پاس ہم اس آیت کے جب بھی معنے کریں گے نَشْطًا مصدر کو مدنظر رکھیں گے۔اور اُن معنوں کی طرف نہیں جائیں گے جو نَشَاطًا سے ظاہر ہوتے ہیں۔سورۃ نازعات کی پہلی پانچ آیتوں کی صحیح تفسیر اب میں پانچوں آیتوں کے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہوں۔میں بتا چکا ہوں کہ ایک معنے جو میرے نزدیک معقول ہیں اور جن پر اکثر صحابہ ؓ اور تابعین اور تبع تابعین کا اتفاق ہے اور جو اکثر مفسّرین سے بھی مروی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس جگہ ملائکہ مراد ہیں۔مگر یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ملائکہ کی طرف تو مذکّر کی ضمیر جانی چاہیے تھی جیسے قرآن کریم میں ایک اور جگہ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ (النحل :۵۱) کہہ کر ملائکہ کی طرف مذکر کی ضمیر پھیری گئی ہے مگر یہاں مذکر کی بجائے مؤنث کی ضمیر آتی ہے حالانکہ ملائکہ مؤنث