تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 135

ہوتی ہے۔پس یہ دو معنے ایسے ہیں جو قرینِ قیاس او ر موقعہ ومحل کے مطابق ہیں۔گو ان معنوں کو آیات پر چسپاں کرتے ہوئے مفسّرین سے بہت کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔مثلاً فرشتوں کے معنے توانہوں نے لے لئے ہیں مگر اُن معنوں کو ایسے رنگ میںچسپاں کیا ہے جس میں اضطراب پایا جاتا ہے۔کہیں آیتوں کا باہمی جوڑ نہیں ملتا۔کہیں ترتیب میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔کہیں بلا وجہ تکرار تسلیم کرنا پڑتا ہے۔بہرحال اگر ہم ان معنوں کو پسند کرتے ہیں تو ان مشکلات کو حل کرنا ہمارا کام ہے۔اب پیشتر اس کے کہ میں اِن آیات کے متعلق اپنی تشریح بیان کروں یہ امر واضح کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس جگہ چار فقروں میں مفعول مطلق استعمال ہوئے ہیں اور پانچویں فقرہ میں مفعول بہٖ آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا۔وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا۔فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا۔اِن میں سے پہلے چار فقروں میں غَرْقًا۔نَشْطًا۔سَبْحًا اور سَبْقًا مفعول مطلق کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور اَمْرًا مُدَبِّرَات کا مفعول بہٖ کے طور پر۔جہاں تک فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کا تعلق ہے وہ تو زیر بحث نہیں لیکن باقی چار جگہوں میں مصدر آئے ہیں اُن کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تین مصدر تو انہی افعال سے آئے ہیں جو پہلے آچکے ہیں مثلاً نَاشِطَات کا نَشْطًا ہے سَابِحَات کا سَبْحًا ہےاور سَابِقَات کا سَبْقًا ہے مگر نَازِعَات کے مقابلہ میں غَرْقًا رکھ دیا گیا ہے حالانکہ نَزَعَ کا مصدر نَزْعًا ہے یا نُزُوْعًا ہے یا نَزَاعَۃً وَنِزَاعًا ہے مگر بجائے اس کے کہ ان میں سے کوئی ایک مصدر رکھا جاتا ان کی بجائے باہر سے ایک اَور لفظ لے لیا گیا ہے اور نَازِعَات کے ساتھ غَرْقًا کا لفظ رکھ دیا گیا ہے۔قرآن مجید کی بعض آیات کے صحیح معنے سمجھنے کا ایک گر اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بہت بڑی حکمت کی بات ہے عربی زبان میں صرف فعل سے معنے متعین نہیں ہوتے بلکہ فعل کو اس کے مصدر سے باندھ کر معنے پیدا ہوتے ہیں مثلاً اگر ہم صرف نَزَعَ کہہ دیں تو خالی نَزَعَ کے معنے یہ بھی ہوں گے کہ کسی چیزکو اُکھیڑ دیا۔یہ معنے بھی ہوں گے کہ فلاں شخص ایک بات سے رُک گیا۔یہ معنے بھی ہوں گے کہ اُس نے کسی چیز کی خواہش کی۔لیکن جب اس کو کسی مصدر سے باندھ دیا جائے گا تو اس کے وہی معنے ہوں گے جو اس مصدر سے ظاہر ہوتے ہوں گے۔مثلاً ہم نَزَعَ نَزْعًا کہیں گے تو اس کے معنے مشابہ ہو جانے کے نہیں ہوں گے کیونکہ مشابہ ہونے کے معنے نُزُوْعًا مصدر سے پیدا ہوتے ہیں یا اس کے معنے شوق اور خواہش پیدا ہونے کے نہیں ہوں گے کیونکہ یہ معنے اُس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جب نَزَ اعَۃً وَنِزَاعًا وَنُزُوْعًا مصدر ہو بلکہ نَزَعَ نَزْعًا کے معنے کسی چیز کو اُکھیڑ دینے یا کسی کو معزول کر دینے کے ہوں