تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 133

دوڑکرجا کر پکڑتی ہے۔آخر میں فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا کا ذکر آیا تھا اس کے متعلق بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ ملائکہ ہیں جو ملک الموت کے ساتھ آتے ہیں۔گویا پانچ فقرے خدا تعالیٰ نے استعمال کئے مگر ہر جگہ انہوں نے یہی معنے کر لئے کہ اس سے مراد موت ہے۔کوئی کہتا ہے قدموں میں سے جان نکالی جاتی ہے۔کوئی کہتا ہے وہ تیر کی طرح انسانی جسم میں تیرتی ہے۔کوئی کہتا ہے وہ انسان کو دوڑ کرآپکڑتی ہے حالانکہ وہ خواہ تیر کی طرح تیرے یا قدموں میں سے نکلے پھر ہوا کیا۔اور بات کیا بنی کہ ہر جگہ موت کا ذکر شروع ہو گیا اور وہ بھی بالکل بے معنی۔ایک فقرہ آتا ہے تو اس کے معنے بھی روح کے نکالے جانے کے کئے جاتے ہیں۔دوسرا فقرہ آتا ہے تو اس کے معنے بھی روح کے نکا لے جانے کے کئے جاتے ہیں۔تیسرا فقرہ آتا ہے تو اس کے معنے بھی روح کے نکالے جانے کے کئے جاتے ہیں۔یہ بات کیا ہوئی اور قرآن کا مقصد کیا ہوا کہ بار بار روح کے قبض کا ذکر بغیر کسی مزید مقصداور فائد ہ کےکرتا ہے۔آخر اس سے بنی نوع انسان کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے یا اُن کے علم میں اس سے کیا اضافہ ہو سکتا ہے یا کون سی پیشگوئی ہے جو اِن معنوں میں نظر آتی ہے۔کون سا ـغیب ہے جو ان الفاظ میں ظاہر کیا گیا ہے یا کون سی ترقی ہے جو ان معنوں میں علمِ سائنس میں ہوتی ہے یا علم الاخلاق میں ہوتی ہے یا علم روحانیت میں ہوتی ہے۔آخر ہواکیا؟ جان قدموں میں سے نکلے یا ہاتھ پائوں میں سے نکلے بہرحال جو مر گیا وہ مر گیا ہمیں اس سے کیا بحث ہے کہ اس کی جان قدموں سے نکلی تھی یا سر میں سے نکلی تھی۔مگر کوئی حکمت نہیں بتائی جاتی اور اندھا دُھند خدائی کلام کے پانچ فقروں کے مسلسل یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ اس سے موت ہی مراد ہے اور کچھ مراد نہیں۔پھر خود ایک ایک آیت کے جو معنے کئے گئے ہیں اُن میں بڑا اختلاف ہے۔معاذ بن جبل سے ابن مردویہ نے جو حدیث نقل کی ہے اُس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نَاشِطَاتِ دوزخ کے وہ کُتّے ہیں جو دوزخیوں کا گوشت نوچیں گے اور دوسرے کہتے ہیں اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومنوں کی جان نکالتے ہیں۔یہ کتنے متضاد معنے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے یہ دوزخ کے وہ کُتّے ہیں جو دوزخیوں کا گوشت نوچیں گے اور دوسرا کہتا ہے اس سے وہ ملائکہ مرادہیں جو مومنوں کی جان نکالتے ہیں۔نازعات اور ناشطات سے مرادفرشتوں کے گروہ ان ساری باتوں سے معلوم ہو تا ہے کہ کسی ایک امرپر مفسّرین کا اتفاق نہیں ہوا بلکہ ہر بات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔صرف ایک معنے ہیں جس پر اتفاق پایا جاتا ہے اور وہ معنے فرشتوں کے ہیں۔اکثر صحابہ اور تابعین اور اُن کے بعد آنے والے مسلمان زیادہ تر اسی امر پر متفق نظر آتے ہیں کہ نَازِعَات ا ور نَاشِطَاتِ سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں لیکن اس میں ایک دِقّت ضرور ہے اور وہ یہ کہ