تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 127
ابن مردو یہ نے ایک حدیث بھی نقل کی ہے کہ نَاشِطَات دوزخ کے کُتّے ہیں جو گوشت نوچیں گے جس کا مطلب یہ نکلا کہ نَاشِطَات میں مومنوں کی روح کا ذکر نہیں بلکہ کفّار کا ذکر ہے کیونکہ دوزخ کے کتے تو کفار پر ہی حملہ آور ہوں گے۔(فتح البیان) مفسرین کے نزدیک سابحات کے معنے وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں جو مومنوں کی جان نرمی سے نکالتے ہیں۔مجاہدؔ اور ابو صالحؔ کا قول ہے کہ اس سے ملائکہ مراد ہیں جو آسمان سے خدا تعالیٰ کا حکم پورا کرنے کے لئے دوڑتے ہوئے اُترتے ہیں۔مجاہد کا یہ قول بھی ہے کہ اس سے مرادموت ہے جوجسموں میں تیرتی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ یہ گھوڑے ہیں جو غزوات میں دوڑتے ہیں۔قتادہؔ اور حسنؔ کہتے ہیں کہ یہ ستارے ہیں جو افلاک میں پھرتے ہیں جیسے فرمایا کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (الانبیاء :۳۴) عطاء کہتے ہیں کہ کشتیاں ہیں کہ پانی میں تیرتی ہیں بعض نے کہا ہے کہ مومنوں کی ارواح ہیں کہ لقاء الٰہی کے شوق میں تیرتی ہیں۔حضرت علیؓ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا یہ ملائکہ ہیں جو مومنوںکی ارواح کو لے کر آسمان میں دوڑتے ہیں۔(فتح البیان) سَابِقَاتِ سَبْقًاکے متعلق مفسرین کی رائے فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا مجاہدؔ اور مسروقؔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں کہ وحی لے کر شیطانوں سے آگے پہنچتے ہیں اورابوروقؔ کہتے ہیں کہ ملائکہ ہیں کہ انسانوں سے عمل اور خیر میں آگے نکل گئے۔مجاہدؔ کا بھی ایسا ہی قول ہے اور مقاتلؔ کہتے ہیں کہ ملائکہ ہیں جو ارواحِ مومنین کو لے کر آگے نکل جاتے ہیں۔ربیعؔ کا قول ہے کہ ارواحِ مومنین ہیں کہ لقاء الٰہی کے شوق میں ملائکہ کی طرح دوڑتی ہیں۔حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ ملائکہ ہیں کہ مومنوں کی ارواح لے کر ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں۔مجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد موت ہے کہ انسان کو دوڑ کرجا پکڑتی ہے۔قتادہ اورحسن اور معمر کہتے ہیں کہ ستارے ہیں کہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔(فتح البیان زیر آیت والنازعات غرقا والناشطات نشطا) (یہاں ضمنی طور پر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ بات قرآن کریم کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات اور دن کا آنا جانا ہمارے ایک قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور تمام سیّارے اور ستارے اسی قانون کے ماتحت گردش کر رہے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے سباق کی کوشش نہیں کر سکتے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَاالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَاَالَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ(یٰس:۴۱) کہ نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے بڑھ سکتی ہے پس قرآن کریم کی یہ آیات قتادہ اور حسن اور معمر کی متذکرہ بالا بات کو ردّ کرتی ہیںکہ ستارے ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں)