تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 126
کے لوگوں کا ہے۔پھر لکھا ہے سدیؔ کہتے ہیں کہ نَازِعَات سے مراد نفوس ہیں جب وہ سینہ میں غرق ہو جاتے ہیں یعنی موت کے وقت۔اور مجاہد کہتے ہیں کہ نَازِعَات سے مراد موتیں ہیں جو روحوں کو نکالتی ہیں اور قتادہ کہتے ہیں کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں اور پھر دوسرے افق سے نکل آتے ہیں اور ابو عبیدہ ؔ اور اخفشؔ اور ابن کَیْسَان کا بھی یہی قول ہے۔اور اس حد تک یہ معنے درست ہیں کہ لغت میں لکھا ہے نَزَعَ اِلَی الشَّیْئِ نَزَاعًا: ذَھَبَ اِلَیْہِ یُقَالُ ’’ لَہٗ نَزْعَۃٌ اِلٰی کَذَا‘‘ یعنی نَزَعَ اِلَی الشَّیْئِ کے معنے ہوتے ہیں۔وہ اس طرف جاتا ہے اِسی طرح کہتے ہیں نَزَعَ بِفُلَانٍ اِلٰی کَذَا: دَعَاہُ اِلَیْہِ یعنی اس شخص کو فلاں کام کی طرف بلایا (اقرب) اور نَزَعْتُ بِالْحَبْلِ کے معنے ہوتے ہیں میں نے رسّہ سےکھینچا۔گویا لغت کے لحاظ سے ایک طرف سے جانااور دوسری طرف سے نکل آنا اس کا مفہوم ہوتا ہے۔چونکہ ستارے بھی ایک طرف سے جاکر دوسری طرف سے نکل آتے ہیں اس لئے انہیں نَازِعَاتِ غَرْقًا کہا گیا۔عطاءؔ اور عکرمہؔ کا قول ہے کہ نَازِعَات کمانیں ہیں کہ تیر پھینکتی ہیں اور غَرْقًا سے مراد اِغْرَاقٌ ہے کہ تیر انداز تیر کو اس قدر کھینچتا ہے کہ تاند کے ساتھ تیر کا نوک آ لگتا ہے۔اور بعض نے کہا ہے کہ نَازِعَات سے مراد وہ غازی ہیں جو تیر اندازی کرتے ہیں۔گویا اُ ن کے نزدیک غَرْقًا پر نصب بطور مصدر ہے اور مراد اِغْرَاقًا ہے چنانچہ کہتے ہیں اَغْرَق فِیْہِ: (یُغْرِقُ) اِذَابَالَغَ غَایَتَہٗ یعنی کام کو اس کی انتہائی حد تک پہنچایا۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) اور مراد یہ ہے کہ وَالنَازِعَاتِ وَالْمُغْرِقَات غَرْقًایا اِغْرَاقًا ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں تیروں کو کھینچنے والے نفوس کو جو اتنا کھینچتے ہیں کہ تیر کا اگلا سرا کھنچ کر تاند تک آجاتا ہے۔حضرت علیؓ کا قول ہے کہ یہ ارواح کفّار ہیں۔(فتح البیان ) حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ کفّار کی ارواح پہلے کھینچی جاتی ہیں پھر نکالی جاتی ہیں پھر آگ میں پھینک دی جاتی ہیں۔سابق مفسرین کے نزدیک وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا کا مطلب وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا۔ابن عباس اور سدیؔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد نفوس ہیں جو قدموں سے نکالے جاتے ہیں۔گویا جان تمام جسم میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب قدموں کے پاس سے نکالی جائے تو اُن جانوں کو نَاشِطَات کہتے ہیں۔مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد موت ہے جو نفوس انسانی کو نکالتی ہے قتادہؔ۔حسنؔ اور اخفشؔ کہتے ہیں کہ ستارے ہیں کہ ایک افق سے دوسرے افق کی طرف جاتے ہیں۔صاحب الصحاح کہتے ہیں کہ ستا رے ہیں جو ایک برج سے دوسرے برج کی طرف جاتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ نَاشِطَات کا لفظ رواحِ مومنین کی طرف اشارہ کرتا ہے اور نَازِعَات سے ارواحِ کفّار کی طرف اشارہ ہے مگر حضرت علیؓ ناشطات کو کفار کی ارواح نکالنے کی طرف اشارہ بتاتے ہیں اسی کے مطابق معاذؔابن جبلؓ سے