تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 116

کا کلام جوسب سے زیادہ دلائل کا حقدار ہوتا ہے اگر اس دلیل کو ترک کر دے اور یہ ثبوت اپنی تائید میں پیش نہ کرے تو وُہ یقیناً ایک مفید اور ضروری پہلو کو ترک کرنے والا قرار پائے گا اور دنیا کے ایک حصہ کو جس کا حلف کے بغیر اور کسی بات سے اطمینان نہیں ہوتا غیر مطمئن رکھنے والا سمجھا جائے گا۔اس اعتراض کا جواب کہ گو حلف قرآن مجید خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہے لیکن اس کے کھانے والے تو آنحضرت صلعم ہی ہیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گو حلف خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہو مگر قسم کھانے والا تو وہ انسان ہی ہو گا جو اس کلام کو پیش کرتا ہے اس صُورت میں اسے کلام الٰہی کی سچائی کا ثبوت کس طرح سمجھا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک حلف کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہو گا اور بے شک حلف کھانیوالا بھی ایک انسان ہی ہوگا جو اس کلام کو پیش کرتا ہے لیکن اگر وہ جھوٹا ثابت ہو گا تو وہ قسم کس کے خلاف پڑے گی یقیناً اسی انسان کے خلاف پڑے گی جس نے اس قسم کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا۔مثلاً زید کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے ایسا کہا اور زیدبھی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ بات سچی ہے۔اب اگر وہ اپنی اس بات میں جھوٹا ہے اور اُسے خدا تعالیٰ نے کوئی بات نہیں کہی تو اُس قسم کی ذمہ واری کس پر عائد ہو گی؟اُسی پر ہو گی جس نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا اور جھوٹی قسم کھا کر لوگوں کو دھوکا دیتا رہا اور جب اُسی پر اس کی ذمہ واری ہو گی تو جب وہ الٰہی گرفت میں آئے گا سب لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ وہ ایک جھوٹا انسان تھا جس نے افتراء سے کام لیا اور جس کے نتیجہ میں وہ الٰہی عذاب میں گرفتار ہو گیا۔پس بنی نوع انسان کے دلوں کو یقین دلانے اور اُن کے شکوک و شبہات کو دُور کرنے کے لئے ضرور کوئی ایسا طریق ہونا چاہیے تھا جس سے ان کی تسلی ہو جاتی اور اسی وجہ سے قرآ ن کریم میں قسمیں کھائی گئی ہیں ان قسموں کے متعلق دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں (۱) یا تو کوئی شخص یہ تسلیم کرے گا کہ یہ قسمیں خدا تعالیٰ نے ہی کھائی ہیں کسی انسان نے نہیں کھائیں۔اور جب وہ ان قسموں کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ وہ کلام الٰہی کی صداقت پر بھی ایمان رکھے گا۔(۲) یا پھر اس کا یہ عقیدہ ہو گا کہ یہ قسمیں خدا نے نہیں کھائیں بلکہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کھائی ہیں تب بھی وہ یقین رکھے گا کہ اگر انہوں نے نعوذ باللہ جھوٹی قسمیں کھائی ہیں تو خدا تعالیٰ اُن کو سزا دے گا۔گویا اس دلیل کی جو غرض تھی وہ بہرحال پوری ہو جائے گی۔اگر کسی شخص نے قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام مان لیا تو اُس کے لئے کسی حلف یا تائیدی ثبوت کی ضرورت نہیں۔وہ یقین رکھے گا کہ جس قدر قسمیں کھائی ہیں خدا تعالیٰ نے ہی کھائی ہیں اور اگر وہ سمجھے گا کہ یہ قسمیں خدا تعالیٰ نے نہیں کھائیں بلکہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نعوذباللہ خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہے تب بھی اس کا دل مطمئن ہو