تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 114
جارہی ہے وہ خدا تعالیٰ نے ہی کہی ہے کسی انسان نے اپنے پاس سے نہیں بنا لی۔اگر اس قسم کا ثبوت خدائی کلام میں موجود نہ ہو تو اس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہو کہ صادق اور کاذب مدعی میں کوئی مابہ الامتیاز نہ رہے گا اور لوگ اسی دھوکا میں گرفتار رہیں گے کہ ہمارے سامنے جو مدعی کھڑا ہے اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوتا ہے یا یہ اپنے پاس سے بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے پس اس قسم کا ثبوت صرف اس لئے ضروری نہیں کہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جو بغیر اس امر پر تسلّی پانے کے کہ اس کلام کے پیش کرنے والے کو خود بھی اپنے الہام پر کامل یقین ہوتا ہے ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتیں بلکہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ یہ خدا کا ہی کلام ہے اور اس کے متعلق جھوٹ سے کام نہیں لیا گیا۔اگر بغیر دلیل اور ثبوت کے الٰہی کلام پیش کر دیا جائے اور جب کوئی ثبوت مانگے تو اُسے کہہ دیا جائے کہ خدائی کلام کے متعلق کسی ثبوت کی کیا ضرورت ہے کیا یہ بات کم ہے کہ میں کہہ رہا ہوں خدا تعالیٰ نے یہ کلام نازل کیاہے توکل کوئی جھوٹا مدعی کھڑا ہو جائے گا اور وہ بھی کہنا شروع کر دے گا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس اس طرح کہا ہے۔تب لوگ گھبرائیں گے کہ ہم کیاکریں کس کو مانیں اور کس کو ردّ کر یں یہ بھی کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے اور وہ بھی کہتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے ہم اس کی بات مانیں یا اس کی بات مانیں۔پس چونکہ صادق اور کاذب مدعیان میں اس طرح کوئی مابہ الامتیاز نہیںرہ سکتا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنوں کو باطل کرنے اور دنیا پر ان کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لئے اپنے اُوپر یہ واجب کر لیا ہے کہ وہ خود اپنے کلام کی سچائی کا ثبوت پیش کیا کرے گا۔اگر حضرت ابراہیم یہ کہتے کہ جب میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایساکہہ رہاہے تو تم کیوں نہیں مانتے۔یا حضرت موسی ٰ ؑ کہتے کہ تمہیں کسی ثبوت کی کیا ضرورت ہے میں جو کہہ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوا اور اُس نے مجھ سے یہ یہ بات کی یا حضرت عیسیٰ ؑ کہتے ہیں کہ مجھ سے کسی ثبوت مانگنے کی کیا ضرورت ہے میں جو کہہ رہا ہوں کہ خدا مجھ سے بولا اور اُس نے مجھے یہ پیغام دیا۔یا اگر یہی طریق حضرت زرتشت ؑ اختیار کرتے یہی طریق حضرت کرشن ؑ اختیا رکرتے یہی طریق حضرت رامچندر اختیار کرتے تو لوگ اس قدر ڈر جاتے کہ جو شخص بھی ان کے زمانہ میں مدعی بن جاتا اُسے مان لیتے اور اُس سے کسی ثبوت کا مطالبہ نہ کرتے اور چونکہ جھوٹے مدعی ہر زمانہ میں ہو سکتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ جھوٹ پھیل جاتا اور صداقت مشتبہ ہو جاتی۔پس خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کو روکنے کے لئے اپنے کلام کی صداقت کا ثبوت مہیا کرنا اپنے اوپر واجب کر لیا ہےتاکہ جب کوئی کہے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ کلام خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے تو فوراً اس کے سامنے ثبوت پیش کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ یہ یہ ثبوت ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں۔پس چونکہ