تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 113

دوسرے وجودسے اپنا اتحادثابت کر کے اُسے اپنے سچے ہونے کی دلیل قرار دیتا ہے اور اُس میں غلط ہونے کی صورت میں قطع و عذاب کا مطالبہ کرتا ہے۔قسم خدا کی طرف سے نازل ہونے والے کلام کے لئے خدائی کلام ہونے کا ایک ثبوت اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ان معنوں کے رُو سے خد اتعالیٰ کے لئے حلف اٹھانی جائز ہو سکتی ہے یا نہیں۔اور کیا جب خدا تعالیٰ کسی چیز کی قسم کھائے تو یہ معنے وہاں چسپاں ہو سکتے ہیں؟ سو ہم دیکھتے ہیں کہ گو جو کچھ خدا تعالیٰ کہے اس کے انکار کی کسی انسان کو گنجائش نہیں ہو سکتی کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہے اور جب وہ ہمیں کہتا ہے کہ بات یوں ہے تو ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے لازمًا ہمیں ماننا پڑے گاکہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ٹھیک ہے۔لیکن ایک اور سوال ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ اس مقام پرٹھوکر کھا جاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ وراء الوراء ہے وہ ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا۔یہ نہیں ہوا کہ آسمان پھٹا ہو اور خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہو کہ فلاں بات میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تھی یا فلاں بات میں نے موسیٰ ؑسے کہی تھی یا فلاں بات میں نے عیسیٰ ؑسے کہی تھی یا فلاں بات میں نے زرتشت سے کہی تھی یا فلاں بات کرشن ؑسے کہی تھی۔حضرت نوح ؑ آئے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا کہا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ آئے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا نے مجھ سے ایسا کہا ہے۔حضرت موسیٰ ؑ آئے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا نے مجھ سے ایسا کہا ہے حضرت عیسیٰ ؑ آئے تو انہوں نے بھی یہی کہا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے ایسا کہا ہے مگر اُن کے مخاطبین نے اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھا۔اُن کے سامنے بات کرنے والا انسان ہی ہوتا تھا خدا تعالیٰ نہیں ہوتا تھا اور چونکہ خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا اس لئے گو خدا تعالیٰ کی بات کا انکار نہیں ہو سکتا مگر اس کی طرف سے بھیجا ہوا کلام ضرور ثبوت کا محتاج ہوتا ہے۔پس بے شک خدا تعالیٰ کو اپنی بات منوانے کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں مگر اُس کے کلام کو ایسے ثبوت کی ضرورت ہے۔کیونکہ لوگ اس کلام کو براہ راست اللہ تعالیٰ کے منہ سے نہیں سنتے بلکہ ایک اپنے جیسے انسان کے منہ سے سنتے ہیں اس لئے یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کو قسم کی کیا ضرورت ہے محض ایک دھوکا ہے اگر مخاطب یہ بھی مان لیں کہ اس کلام کو سننے والا مانتا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے تو بھی اُس مدعی یا یہ یقین ہر سننے والے کو تو یقین نہیں دلا سکتا۔مثلاً میں قرآن مجید پر کامل ایمان رکھتا ہوں میرے سامنے اگر بغیر قسم کے بھی قرآن مجید کوئی بات پیش کرے تو میں کہوں گا کہ ہاں بالکل درست ہے مجھے اس کی صداقت پر پورا ایمان ہے لیکن جو شخص قرآن مجید کو نہیں مانتا اُس کو تو ثبوت کی ضرورت ہے وہ بغیر کسی ثبوت کے کس طرح تسلیم کر لے گا کہ جو بات اُس کے سامنے پیش کی