تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 112

نزدیک اَقْسَمَ بِا للّٰہِ کے معنے حَلَفَ بِہٖ کے ہی ہیں اور چونکہ اَقْسَمَ کے اور کوئی معنے عربی میں استعمال نہیں ہوئے اس لئے ثلاثی مجرد سے ہی اس کے معنوں کی حقیقت معلوم کرنی پڑے گی اور چونکہ اس کا فعل ثلاثی مجرد متعدی ہے اس لئے باب افعال کا ہمزہ سلب کے معنوں کے لئے زیادہ موزوں ہوگا جو اس باب کے ہمزہ کے مختلف معنی میں سے ایک معنے ہیں یعنی جو قَسَمَ کے معنے تھے وہ اَقْسَمَ بِاللّٰہ میں آکر سلبی صورت اختیار کر لیں گے وہاں اُس کے معنے تھے ٹکڑے کر دیا یابکھیر دیا۔اور یہاں یہ معنے ہوں گے کہ اختلاف دور کر دیا اور ٹکڑوںکو ملا دیا۔گویا ملانے کے معنے آگئے جو حلف کے معنوں سے مل جاتے ہیں۔اسی طرح قَسَمَ فُلَانٌ اَمْرَہٗ کے معنے یہ تھے کہ وہ شک اور تردّد میں پڑ گیا۔ایسے شک اور تردّد میں کہ لَمْ یَدْرِ مَایَصْنَعُ فِیْہِ اُسے کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ اس بارہ میں کیا کرے۔لیکن اَقْسَمَ کے معنے ہوں گے اُس نے شک کو دور کر دیا گویا ازالۂ شک کرنے والی چیز بن گئی۔یہ معنے بھی حلف والے معنوں سے مل جاتے ہیں کیونکہ حلف کے ذریعہ انسان دوسرے کے تردّد کو دُور کرتا اور یقین دلاتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل درست ہے اور میری اس بات پر خدا بھی گواہ ہے۔گویا ہمزہ کو اگر ہم سلبیہ مانیں تو حلف کے معنوں سے اس کے معنے بالکل مل جاتے ہیں۔حلف میں بھی ملانے اور اکٹھا کر دینے کے معنے تھے اور اس میں بھی ٹکڑوں کو ملانے اور اختلاف کودُور کرنے کا مفہوم شامل ہے اسی طرح وہاں بھی تردد کو دور کرنے کا مفہوم تھا اور یہاں بھی یہی مفہوم ہے کہ اُس نے تردّد دُور کر دیا۔تیسرا لفظ قسم کے لئے عربی زبان میں یَمِیْن ہے لیکن اس لفظ کو قسم کے لئے اس لئے استعمال نہیں کرتے کہ اس میں قسم کی طرف کوئی معنوی اشارہ پایا جاتا ہے بلکہ یَمِیْن کا لفظ اس لئے قسم کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے کہ عرب لوگ قسم کھا کر جب معاہدہ کرتے تھے تو ایک دُوسرے کے دائیں ہاتھ کو چُھوتے تھے۔پس چونکہ ایسے موقع پر اَیَامَن (یمین کی جمع ہے)ملائے جاتے تھے اس لئے قسم کے لئے بھی یمینؔ کا لفظ استعمال ہونے لگا(لسان)گویا یمینؔ کالفظ صرف قسم کے ایک ذریعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے لئے لغت موضوع نہیں ہے۔پس قسم کے بارہ میں لغت کی شہادت صرف حلف اور قَسم کے لفظوں سے ملتی ہے اور جیسا کہ میں اُوپر بتا آیا ہوں اِن دونوں لفظوں سے یہ شہادت ملتی ہے کہ حلف اور قسم کے لفظوں کی غرض مشترک اتحاد پیدا کرنا۔شک کودُور کر نا سزا دینا اور قطع کرنا ہے۔یعنی ایک طرف قسم کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ سے اتحاد پیدا کرتا ہے او رکہتا ہے کہ اس معاملہ میں میرا علم اور خدا تعالیٰ کا علم ایک ہی ہے اور دوسری طرف وہ یہ بات پیش کرتا ہے کہ اگر میں نے یہ بات غلط کہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی سزا مجھ پر نازل ہو۔پس حلف کی غرض عربوں کے نزدیک یہ ٹھہری کہ جس سے ایک وجود