تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 110
اُردو زبان کا لِحَاف نکلا ہے کیونکہ ہم اُس کو اوڑھ لیتے ہیں اور وُہ ساری رات ہمارے جسم سے چمٹا رہتا ہے۔تیسرا اشتقاق لَفْحٌ ہے۔اس کے معنے بھی چھونے کے ہوتے ہیں کہتے ہیں لَفَحَہٗ بِالسَّیْفِ: ضَرَبَہٗ بِہٖ (اقرب)یعنی اس کو تلوار سے مارا۔اس میں دوسرے معنے بھی پائے جاتے ہیں یعنی وہ معنے جو نقصان اور ضرر سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح کہتے ہیں لَفَحَتْہُ النَّارُ: اَحْرَقَتْہُ (اقرب) یعنی آگ نے اُس کو جلا دیا۔لسان العرب والے کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ اَصَابَتْ وَجْھَہٗ یعنی آگ لگی اور اُس نے دوسرے کے منہ کو جُھلسا دیا۔گویا اس میں چھونے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور ضرر کے معنے بھی پائے جاتے ہیں۔لُفَّاحٌ ایک خوشبودار بُوٹی ہوتی ہے جس کو سُونگھا جاتا ہے (اقرب) گویا اس اشتقاق میں بھی لگنے اور چھونے اور ضرر پہنچانے کے معنے شامل ہیں۔چوتھا اشتقاق فَحْلٌ ہے اور فَحْلٌ عربی زبان میں سانڈ کو کہا جاتا ہے جس سے بچہ لیا جاتا ہے (اقرب) اس میں بھی چھونے کے معنے پائے جاتے ہیں کیونکہ اُسے بچہ لینے کے لئے مادہ پر ڈالا جاتا ہے۔راوی کو بھی فَحْل کہتے ہیں (اقرب) جس سے دوسرے لوگ روایتیں نقل کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی ساتھ رہتا ہے اور دوسرے کو چمٹا رہتا ہے۔فَحْلَۃٌ اُس عورت کو کہتے ہیں جو زبان دراز ہو (اقرب)جسے ذرا بھی کوئی بات کہہ دی جائے تو وہ پیچھے پڑ جائے۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں کہ پِچھا بھی چھڈ۔یعنی تُو تو پیچھے ہی پڑ گیا ہے اپنی بات کوختم ہی نہیں کرتا۔پس فَحْلَۃٌ اس عورت کو کہتے ہیں جو دوسرے کے پیچھے پڑ جائے اور ساتھ ہی وہ زبان دراز ہو۔گویا اس میں بھی چمٹنے اور ضرر پہنچانے کے معنے پائے جاتے ہیں۔ف ل ح اس کا آخری اشتقاق ہے جس سے ایک لفظ فَلَاح بنتا ہے۔اس کے معنے کامیابی اور بامراد ہونے کے ہیں۔اِن معنوں میں بھی ایک چیز کو اپنے ساتھ چمٹانے اور لگائے رکھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ جو شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے وُہ اُس کو اپنے پاس ہی رکھ لیتا ہے دوسرے کے پاس وہ اُس کو جانے نہیں دیتا۔پھر فلح کے اشتقاق میں علاوہ کامیابی کے پھاڑنے کے بھی معنےپائے جاتے ہیں چنانچہ اسی اشتقاق سے فَلَّاح کا لفظ نکلا ہے جس کے معنےزمیندار کے ہیں جو زمین کو پھاڑتا ہے۔ملّاح جو چپُّو سے کشتی کو چلاتا ہے اُس کو بھی اسی لئے فلاح کہہ لیتے ہیں کہ وہ پانی کو پھاڑ کر کشتی چلاتا ہے۔اور یہ لفظ بھی اشتقاق اکبر کے طور پر ف لا ح کے معنوں پر دلالت کرتا ہے (اقرب) ان سب معنوں کو جب اکٹھا ملا کر دیکھا جائے تو اِن میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔اوّل ایک چیز کا دوسری چیز سے چمٹ جانا یا ایک چیز کو دوسری سے جوڑنا جیسے حَلِیْف اُس کو کہتے ہیں جو دوسرے سے جدا نہ ہو۔حَفْلَۃٌ اجتماع اور اکٹھے ہونے کوکہتے ہیں۔لِحَافٌ اُس کو کہتے ہیں جو اُوپر آکر لپٹ جاتا ہے۔لَفْحٌ شعلہ کے آچمٹنے کو کہتے ہیں۔