تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 109

ہو۔اس تشریح سے دو معنے ایسے نکل آئے جن سے حلف کے مفہوم میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اوّلؔ تیز اور دھار دار ہونا دومؔ کسی چیز کا کسی دوسری چیز سے چمٹا ہوا ہونا۔گویا جہاں بھی حاء۔لام۔اور فاء اکٹھے ہوں گے وہاں یہ دو معنے ضرور پائے جائیں گے (اول) کسی چیز کا دوسری چیز سے چمٹ جانا (دوم) اُس کا تیز اور دھار دار ہونا۔اس کے بعد ہم حاء۔لام۔اور فاء کے دوسرے مرکبات کو لیتے ہیں جو پانچ ہیں یعنی (ا) حَفلؔ۔(۲) لَحفؔ۔(۳) لفحؔ۔(۴) فحل (۵) فلحؔ۔گویا حاء۔فاء اور لام اکٹھے ہوجائیں تو حَفْلٌ بن جائے گا۔لام۔حاء۔اور فاء اکھٹے ہو جائیں تو لحف بن جائے گا۔لام،فائ اور حاء اکٹھے ہو جائیں گے تو لفحٌ بن جائے گا۔فاء ، حاء اور لام اکھٹے ہو جائیں تو فحل بن جائے گا۔اور فاء۔لام۔حاء اکٹھے ہوں جائیں تو فَلْحٌ بن جائے گا۔یہ پانچوں قسم کے اشتقاق عربی زبان میں مستعمل ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان حروف کےتغیرسے معنے کیا بنتے ہیں۔یعنی جب حَاء، فَاء اور لَام اکٹھے ہوںتو اس کے معنے ہوتے ہیں اور جب لام، حاء اور فَاء اکٹھے ہوں تو اس کے کیا معنے ہوتے ہیں۔سب سے پہلے ہم حَفْلٌ کو لیتے ہیں حَفْلٌ کے تمام مشتقات اجتماع اور کثرت پر دلالت کرتے ہیں چنانچہ حَفْلَۃٌ جلسہ اور اجتماع کو کہتے ہیں۔اور اجتماع میں ایک دوسرے سے مل کر بیٹھا جاتا ہے یہی مفہوم حَلِیْف کا بھی تھا کیونکہ اس کے بھی یہی معنے تھے کہ کُلُّ شَیْءٍ لَزِمَ شَیْئًا فَلَمْ یُفَارِقْہُ (اقرب) ایک چیز جو دوسرے کے ساتھ مل گئی اور پھر اُس سے جدا نہ ہوئی۔حَفْلٌ کے معنے بھی اکٹھے ہونے اور آپس میں جڑجانے کے ہیں(اقرب) اسی لئے جلسہ کو حَفْلَۃٌ کہاجاتا ہے کیونکہ وہاں بھی ایک دوسرے سے مل کر بیٹھا جاتا ہے۔اسی طرح حَفْلٌ کسی کام کو اس کی حد تک پہنچا دینے کو بھی کہتے ہیں۔چنانچہ کہا جاتا ہے اِحْتَفَلَ فِیْہِ اَیْ بَالَغَ (اقرب) یعنی اس نے اس کام کو اس کی حد تک پہنچا دیا۔نیز کہتے ہیں اِحْتَفَلَ بَالْاَمْرِ اَیْ احْسَنَ الْقیَامَ بِہٖ (اقرب)یعنی کسی معاملہ کی پوری نگہداشت کی۔اس میں بھی جڑنے اور دوسری چیز سے جدا نہ ہونے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔کیونکہ کسی کام کو اس کی حد تک وہی شخص پہنچا سکتا ہے جو اس کام کے ساتھ چمٹا رہے اور اُس سے الگ نہ ہو۔گویا اس میں بھی جڑنے کے معنے آ گئے۔اسی طرح اَحْسَنَ الْقِیَامَ بِہٖ کے بھی یہی معنے ہیں کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے اِدھر وہ کوئی کام شروع کرتے ہیں اور اُدھر اس کو چھوڑ دیتے ہیں گویا استقلال کا مادہ اُن میں نہیں ہوتا۔لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں جو استقلال کے ساتھ اُس کام میں لگے رہتے ہیں گو یا وہ اپنے کام کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اُس سے الگ نہیں ہوتے۔اس میں بھی جُڑنے اور دوسری چیز سے الگ نہ ہونے کا مفہوم آگیا۔دوسرا اشتقاق لَحْفٌ ہے۔یہ بھی ایک دوسری چیز کو لپٹانے یا ملانے یا لگانے کے معنے دیتا ہے۔اسی سے ہماری