تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 108
جبکہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بے اختیا ر ہے اور اس کا علم خدا تعالیٰ کے علم کےمقابلہ میں ہیچ ہے۔ایک طالب علم تو کہہ سکتاہے کہ جو مسئلہ میں نے بتایا ہے درست ہے جائو اُستاد سے پوچھ لو لیکن کبھی کوئی استاد یہ نہیں کرتا کہ جو مسئلہ میں نے بتا یا ہے وہ درست ہے جائو میرے شاگرد سے پوچھ لو۔پس مخالف کہتا ہے کہ ایسی قسمیں بالکل فضول ہیں۔ان کا وجود کلام الٰہی میں پایا جانا خلاف عقل ہے۔قسم کا مفہو م عربی زبان میں اس اعتراض کا جوا ب دینے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قسم کا مفہوم کیا ہے۔عربی زبان میں قسم کے لئے تین الفاظ استعما ل ہوتے ہیں (۱) حلف (۲)یمین(۳)قسم جو معنے قسم کے اوپر بیان کئے گئے ہیں وہ وہی ہیں جوعرفِ عام میں لئے جاتے ہیں لیکن قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں ہے اس لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ عربی زبان میں حلف یمین اور قسم کا کیا مفہوم ہوتا ہے اور اُس مفہوم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے قسم کھانے میں کیا حکمت ہے۔قسم کا مفہوم ادا کرنے کے لئے عربی زبان میں تین الفاظ میں بتا چکا ہوں کہ عربی زبان میں قسم کے لئے تین الفاظ پائے جاتے ہیں حلف۔یمین اور قسم۔چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں حَلَفَ بِاللّٰہِ حَلْفًا اور اس کے معنے وہ یہ کرتے ہیں اَقْسَمَ بِہٖ (اقرب) اُس نے خدا تعالیٰ کی قسم کھائی۔جہاں تک ان معنوں کا تعلق ہے یہ کوئی زائد بات نہیں بتاتے صرف عُرفِ عام میں قسم کا جو مفہوم سمجھا جاتا ہے اُسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس لئے ہم حلف کے لفظ کو یا اُس کے اشتقاق صغیر و کبیر کے معنوں کو دیکھتے ہیںکہ وہ کیا ہیں تاکہ ہمیں پتہ لگے کہ حلف کے معنوں میں کون کون سی بات پائی جاتی ہے۔عربی زبان میں قسم کے لئے مختلف الفاظ کا استعمال اورا ن کا اشتقاق کے لحاظ سے آپس میں تعلق جہاں تک لفظِ حلف کا تعلق ہے اُس کے قریباً سارے اشتقاق خواہ وہ اشتقاق صغیر ہوں یا اشتقاق کبیر قَسم کے معنے دیتے ہیں سوائے اَلْحَلْفَاءُ کے جس کے معنے قسم کے نہیں۔بلکہ حَلْفَاءُ ایک ایسی بوٹی کو کہتے ہیں جو پانی میں اُگتی ہے اور جس کے پتّوں کے کونے نوکدار اور تیز ہوتے ہیں (اقرب) اسی طرح حَلِیْف کا لفظ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے جس کے معنے ہر اُس چیز کے ہوتے ہیں جو دوسری سے جُدا نہ ہو چنانچہ لکھا ہے اَلْحَلِیْفُ کُلُّ شَیْءٍ لَزِمَ شَیْعًا فَلَمَ یُفَارِقْہُ ( اقرب) حَلِیْف کے دوسرے معنے اَلْحَدِیْدُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ کے ہوتے ہیں (اقرب) یعنی ہر ایسی چیز جو تیز اور دھار دار ہو۔گویا حَلْفَاء وہ بوٹی ہوتی ہے جس کے پتوں کے کونے نوکدار اور تیز ہوتے ہیں۔حَلِیْف وہ چیز ہوتی ہے جو کسی دوسری چیز سے چمٹی رہے اور حلیف اُس چیز کو بھی کہتے ہیں جو تیز اور دھار دار