تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 106

دوسرے ایک زائد بات یہ کی کہ میں نے یہ کہا کہ خدا اس بات کا گواہ ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں۔گویا ایک تو خدا تعالیٰ کا حکم توڑا کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا کہ ہمیشہ سچ بولو مگر میں نے اس حکم کے خلاف جھوٹ بولا اور اس کی نافرمانی کی؟ دوسرے نہ صرف میں نے جھوٹ بولا بلکہ اس میں خدا تعالیٰ کو بھی شریک کرنا چاہا کہ وہ بھی گواہ ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں۔یہ بات ظاہر ہے کہ اگر انسان سے کوئی عام گناہ صادر ہو گا تو خدا تعالیٰ کی غیرت اُس کے خلاف اتنی نہیں بھڑکے گی جتنی اُس صورت میں بھڑکے گی جب وہ خدا تعالیٰ کو بھی اپنے گندے فعل میں شریک کرنا چاہے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر گناہ کے خلاف خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکتی ہے مگر گناہ گناہ میں فرق ہوتا ہے کسی پر اُس کی غیرت کم بھڑکتی ہے اور کسی پر اُس کی غیرت زیادہ بھڑکتی ہے۔جب کوئی شخص اپنے گناہ میں خدا تعالیٰ کو بھی شریک کرنا چاہے گا تویہ لازمی بات ہے کہ اس پر خدا تعالیٰ کی غیرت زیادہ بھڑکے گی۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر کوئی شخص شراب پئے تو ہم کہیں گے کہ وہ بہت بُرا کرتا ہے لیکن اگر اُسے شراب سے منع کیا جائے اور وہ کہے کہ فلاں بزرگ بھی شراب پیتا ہے اور وہ بزرگ ایسا ہو جس کی عزت لوگوں کے دلوں میں ہو تو اس کے خلاف لوگوں کو اور زیادہ غصّہ آئے گا کہ ایک تو تم شراب پیتے ہو اور دوسرےؔ شراب کے گناہ میں ایک بزرگ کو بھی ملوّث کرنا چاہتے ہو۔اسی طرح ہر گناہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے مگر جب کوئی جھوٹی قسم کھاتا ہے تو وہ اُس کی ناراضگی کو اور بھی بھڑکا تا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کوبھی اپنے جھوٹ میں شریک کرتا ہے۔قسم کے معنے خدا تعالیٰ کو اپنے فعل میں شریک کر نے کے ہیں قسم کے معنے درحقیقت خدا تعالیٰ کو اپنے فعل میں شریک کرنے کے ہوتے ہیں۔پس اگر وہ سچی بات ہے جس پر کوئی شخص قسم کھاتا ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔مثلاً وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں اور واقعہ بھی یہی ہو کہ وہ نماز پڑھا کرتا ہو تو اس میں خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔خدا تعالیٰ بہرحال جانتا ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے سچ کہہ رہا ہے۔لیکن اگر وہ نماز نہیں پڑھتا اور کہتا ہے کہ خدا کی قسم! میں نماز پڑھا کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنے فریب اور دغا میں خدا تعالیٰ کو بھی شامل کرتا ہے اور جب وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت اُس کے خلاف بھڑک اٹھتی ہے۔قسم ذریعہ تسلی گویا قسم کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ سننے والوں کی تسلی ہو جائے۔جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ایسا فعل کیا ہے تو خدا تعالیٰ تو اس کی سچائی کی شہادت اپنی زبان سے نہیں دیتا اور نہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قسم کے بعد اللہ تعالیٰ یوں کہے کہ ہاں میرا یہ بنداسچ بول رہا ہے لیکن باوجو د اس کے جو شخص قسم